سعودی وزیر انصاف کا قطیف میں جج کے اغوا پر اظہارِ تشویش
سعودی عرب کے وزیر عدل اور سپریم جوڈیشیل کونسل کے سربراہ ولید بن محمد السمعانی نے قطیف میں ایک جج شیخ محمد الجیرانی کے اغوا پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
نامعلوم مسلح افراد نے قطیف میں محکمہ وقف اور ورثہ کے جج شیخ محمد الجیرانی کو منگل کی صبح ان کے مکان کے سامنے سے اغوا کر لیا تھا۔پولیس نے اغواکاروں کی تلاش اور جج کی بازیابی کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کردی ہے۔
طاروت کے میئر عبدالحلیم کیدار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ انھوں نے جج جیرانی کے جوتے ان کے مکان کے سامنے ان کی کار کے نزدیک پڑے دیکھے ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ انھیں دہشت گرد گروپ نے سفاکانہ انداز میں اغوا کیا تھا۔
انھوں نے مزید بتایا ہے کہ جج کی اہلیہ نے سب سے پہلے سکیورٹی فورسز کو ان کے اغوا کی اطلاع دی تھی۔اس کے بعد سے ان کی تلاش جاری ہے۔درایں اثناء ایک خلیجی اخبار نے جج کے خاندان کے ایک رکن شیخ محمد الجیرانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ تین مسلح افراد انھیں زبردستی کار میں ڈال کر لے گئے تھے۔اس وقت وہ گھر سے کہیں باہر جانے کے لیے نکلے تھے۔
جج کی اہلیہ نے بتایا ہے کہ اغوا کا یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے کے قریب پیش آیا تھا۔اس وقت ان کے خاوند گھر سے باہر ان کا خواتین کے ایک سپورٹس کلب میں چھوڑنے کے لیے انتظار کررہے تھے۔
سعودی محکمہ عدل کے دوسرے ججوں نے اپنے ساتھی کے اغوا کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جرائم پیشہ افراد اور گینگز کا یہ ایک خطرناک نیا رویہ ہے۔