.

صدر روحانی سنیوں سے معافی مانگیں : مفتی ایرانی کردستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی کردستان میں اہل سنت کے مفتی حسن امینی نے ایرانی صدر حسن روحانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سنیوں سےمتعلق اپنے بیان پر معافی مافی مانگیں۔ روحانی نے اپنے ایک بیان میں کاہ تھا کہ " ملک میں سنی کم اہلیت اور قبالیت کے حامل لیں لہذا اعلی ترین منصبوں پر ان کا تقرر نہیں کیا جا سکتا"۔

صدر حسن روحانی نے چند روز قبل کردستان میں اہل سنت علماء کرام اور شخصیات سے ملاقات کی تھی۔ ایران میں مرکزی منصبوں پر سنیوں سے استفادہ نہ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں روحانی کا کہنا تھا کہ "ملک میں تقرر کی بنیاد میرٹ ہے اور کئی مرتبہ باور کرایا جا چکا ہے کہ منصبوں پر تقرر ذاتی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر عمل میں آتا ہے"۔

ایرانی کردستان کے دورے میں اہل سنت عوام کے مجمع میں خطاب کرتے ہوئے روحانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی حکومت کے وزراء سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبوں میں گورنر ، ڈائریکٹر اور سکریٹری جنرل کے عہدوں کے واسطے بہترین افراد کو لے کر آئیں"۔

ایرانی کردستان میں اہل سنت کے مفتی نے ایرانی صدر کے نام کھلے خط میں کہا ہے کہ " اگر ہم مذکورہ دونوں عبارتوں کو یکجا کر لیں تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اہل سنت درحقیقت اعلی منصبوں کا استحقاق نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اور ایران میں بقیہ ذمے داران یہ ہی کچھ سمجھتے ہیں.. بصورتِ دیگر گزشتہ پورے 38 برس میں اسلامی جمہوریہ ایران میں نائب صدر ، وزیر ، گورنر کے یا فوج اور یونی ورسٹی میں کسی اعلی منصب پر کوئی کرد مقرر کیوں نہ ہو سکا"۔

مفتی حسن امینی نے اگست میں ایک بیان میں کہا تھا کہ شیعہ مرجع شخصیات ہی سنیوں کو ایران میں سرکاری منصبوں پر فائز ہونے روکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اقلیتوں کے نسلی اور مذہبی مسائل کا حل ہونا حکومت کے سربراہ حسن روحانی کے ذریعے ممکن نہیں"۔

حسن امینی نے اپنے کھلے خط میں حسن روحانی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایرانی صدر کے بیان کو ملک میں سنیوں کے لیے "اہانت آمیز" قرار دیا۔

ایرانی صدر نے 2013 میں ہونے والے سابقہ صدارتی انتخابات میں اپنی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں نسلی ، مذہبی اور مسلکی اقلیتوں کی جانب سے سپورٹ حاصل کرنے کی صورت میں انہیں ریاست کے نمایاں منصب پیش کریں گے۔