خونی جدوجہد کردستان کی آزادی کا واحد راستہ؟

’اربیل اور بغداد میں تناؤسے کردوں کی علاحدگی کی تحریک زور پکڑ سکتی ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

عراق کے کرد اکثریتی صوبہ کردستان میں طویل عرصے سے آزاد مملکت کے قیام کی آوازیں بلند ہو رہیں۔ گوکہ صوبہ کردستان کی موجودہ حکومت داخلی طور خود مختار ہونے کے باوجود عراقی حکومت ہی کے زیرانتظام ہے مگر حال ہی میں صوبائی وزیراعلیٰ مسعود بارزانی نے کردوں کی مکمل طور پرآزاد اور خود مختار ریاست کے حوالے سے بیان جاری کرکے کرد ریاست کے مخالفین کو ایک نئی الجھن میں ڈال دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس وقت عراق کی تمام سیکیورٹی فورسز اور کردستان کی فوج البیش مرگہ مل کر شمالی عراق کے شہر موصل سے داعش کو نکال باہر کرنے کے لیے لڑائی میں شامل ہیں۔ مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ مسعود بارزانی نے کردوں کی الگ ریاست کی حمایت میں بیان جاری کرکے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ کرد قوم اپنی آزادی کے لیے خونی جدو جہد شروع کرسکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ عراق میں داعش کی شکست کے بعد یا اس سے بھی پہلے کردستان کی ازادی کی جدو جہد شروع ہو جائے۔

عراقی کردوں کی جانب سے آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ بہت پرانا ہے۔ جب سے شمالی عراق کے شہروں میں داعش نے قبضہ کیا تو کرد ریاست کا مطالبہ پیچھے چلا گیا کیونکہ داعش نے کرکوک جیسے ان شہروں پربھی قبضہ جمالیا تھا جنہیں کرد اپنی ریاست میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ ایام کے دوران ہونےوالے آپریشن میں کرد فوج الپیش مرگہ نے تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک اور کئی دوسرے علاقوں سے داعش کو نکال باہر کیا ہے اور یہ شہر ایک بار پھر کرد فوج کے قبضے میں آگیا ہے۔ اگر کل کو کردوں کی الگ ریاست وجود میں آتی ہے تو کرکوک اس کا اہم ترین اقتصادی مرکز بن سکتا ہے۔

سنہ 2014ء میں کرکوک پر داعش کے قبضے سے کرکوک پر کرد فوج کاکنٹرول تھا۔ کرد فوج سے قبل عراقی فوج کچھ عرصہ وہاں موجود رہے جس کے بعد عراقی فوج کو وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ تب بھی صوبائی وزیراعلیٰ مسعود بارزانی نے کہا تھا کہ ’اب کردوں کی آزادی کا وقت آن پہنچا ہے‘۔

ایک امریکی ریڈیو کو انٹرویو میں مسعود بارزانی نے کہا تھا کہ کرد فورسز کی توجہ ان متنازع علاقوں پر مرکوز ہے جن پر داعش نے قبضہ جما رکھا ہے۔ ہم ان علاقوں سے کسی قیمت پر دست بردار نہیں ہوں گے،دہشت گردوں کو جلد شکست فاش سے دوچار کیا جائے گا۔

اس عرصے میں عراقی حکومت اور کردستان کی صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی بھی دیکھی گئی۔ دونوں حکومتیں ایک دوسرے پر داعش کو سپورٹ کرنے کا الزام عاید بھی عاید کرتی رہی ہیں۔ مگر اس وقت دونوں مل کر داعش کو شکست دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب میں مسعود بارزانی نے کہا کہ تھا کہ آزاد ریاست کردوں کا موروثی حق ہے۔ ان کے اس بیان پر عراقی حکومت نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور انہیں اپنا بیان واپس لینے کو کہا ہے۔

کرد فوج بھی تیزی کےساتھ داعش سے علاقے واپس لے رہی ہے۔ الپیش مرگہ نے نہ صرف کردستان کے متعدد دیہات اور شہر داعش سے واپس لیے ہیں بلکہ بغداد کےساتھ متنازع قرار دیے جانے والے متعدد مقامات پر بھی قبضہ کیا ہے۔ شاید کرد فورسز کی اسی زمینی پیش رفت کو مد نظر رکھتے ہوئے مسعود بارزانی نے آزاد کردستان کے حق میں رائے دی ہے۔

عراقی کردستان کی فوج الپیش مرگہ موصل کے شمالی علاقوں میں داعش کے خلاف پوری قوت سے نبرد آزما ہے۔ اس کی توجہ بعشیقہ کو داعش سے چھڑانے پر مرکوز ہے۔ اس سےقبل کرد فوج اطراف کے کئی دیہات داعش سے آزاد کراچکی ہے۔

موصل میں تازہ لڑائی سے قبل کردستان کے وزیراعلیٰ مسعود بارزانی نے بغداد کا دورہ کیا اور وزیراعظم حیدر العبادی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات اوردیگر ملاقاتوں میں یہ طے کیا گیا تھا کہ موصل کی جنگ میں کرد فوج کی شراکت کی حدود کیا ہوں گی۔ گوکہ اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں مگر معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ کرد فوج داعش کےخلاف جنگ میں شامل ہوگی مگر موصل میں داخل نہیں ہوگی۔

مسعود بارزانی نے 16 نومبر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں بغداد حکومت کے ساتھ طے پائے معاہدے کے بعض نکات بیان کیے ہیں عراقی حکومت نے ان نکات کی سختی سے تردید کی ہے۔

روداوو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسعود بارزانی نے بتایا کہ کرد فوج، عراقی فیڈرل پولیس اور امریکی محکمہ دفاع کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ الپیش مرگہ فورس موصل میں کارروائی سے قبل دفاعی لائن پر موجود رہے گی۔

بعد ازاں بعشیقہ شہر کے دورے کے دوران بھی مسعود بارزانی نے ’’سامریہ نیوز‘‘ کودیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع، عراقی فوج اور کرد فوج کےدرمیان موصل کی داعش سے آزادی کے حوالے سے ایک سمجھوتہ طے پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت کرد فوج کو آپریشن سے قبل موصل کی خط دفاع پر موجود رہنے کو کہا گیا ہے۔

مسعود بارزانی کے بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کرد اپنے نیم خود مختار صوبے کو شمالی عراق میں مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ وہ شمالی عراق کےکئی دوسرے شہروں اور دیہاتوں کو جن پر اس وقت داعش کا قبضہ ہے کردستان فوج کی تحویل میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

صوبہ کردستان کی حکومت اور وزیراعلیٰ مسعود بارزانی کے تازہ بیانات سے یہ اشارہ ملتاہے کہ وہ صوبے کے لیے جس ’نئے اسٹیٹس کو‘ کی اصطلاح استعمال کررہے ہیں اس کا مقصد صوبے کی مکمل طور پر عراقی حکومت سے آزادی ہے۔

مسعود بارزانی کئی ایک مواقع پر کھل کر کہہ چکےہیں کہ آزادی کردوں کا فطری حق ہے اور ہم اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حالات جیسےبھی ہوں کرد عوام اپنی آزاد مملکت کا مطالبہ کرتے رہےہیں۔ اس مطالبے کے خلاف کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیاجائے گا۔

حال ہی میں انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے دورہ بغداد میں عراقی حکومت پر واضح کردیا ہے کہ ہمارے جائز مطالبات مانے جائیں۔ اہم ترین مطالبہ یہ ہے کہ کردستان کو مکمل طور پرآزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کیا جائے۔ ہمارا خون گرانے سے حقیق شراکت ممکن نہیں۔ آئیں ہم سب مل کر ایک دوسرے کے لیے اچھے پڑوسی ثابت ہوں۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ہمارا مطالبہ جنگ اور خون بہائے بغیر پورا نہیں ہوگا‘‘۔

مسعود بارزانی نے دعویٰ کیا کہ کرد فوج نے حالیہ لڑائیوں کے دوران 11500 جانوں کی قربانی پیش کی ہے۔ ہم کردستان کے داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان علاقوں کے بارے میں بغداد حکومت کے ساتھ براہ راست معاملات طے کریں گے۔

عراق میں آزاد صوبہ کردستان کا مطالبہ اپنی جگہ مگر یہ اتنا آسان بھی نہیں۔ کردوں کے سامنے بھی کئی داخلی اور خارجی پیچیدگیاں حائل ہیں۔ حال ہی میں عراقی وزیراعظم کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان کو بھی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ داعش سے چھڑائے گئے علاقے متنازع علاقے کردستان میں شامل کرنے کے مطالبے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔

اگر معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو عراقی حکومت زیادہ سے زیادی شمالی عراق کے بعض دیہاتوں یا چھوٹے شہروں پر کرد فوج کا انتظامی کنٹرول تسلیم کرے گی مگر کردستان کی الگ ریاست کے قیام کی حمایت ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ البتہ اس سے کردوں کی آزادی کا خواب اپنی تعبیر کے قریب ضرورہوجائے گا۔ یہاں یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا عراقی حکومت اگر بعض علاقے کردوں کو دینے پر تیار ہوتی ہے تو کیا ملک کےتمام نمائندی سیاسی طبقات اور تنظیمیں جو کردستان کی علاحدگی کے سخت خلاف ہیں وہ اس کی اجازت دیں گے۔ چنانچہ یہ بھی کردستان کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

عراق کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے اہل سنت مسلک کے لوگ اپنے اہم ترین اقتصادی مراکز کو کھو جانے پر تیار ہوں گے۔ کیا ایران نواز شیعہ ملیشیا آزاد کردستان وک قبول کرے گی؟ یہ تمام سوالات کردستان کی آزادی پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ زیادہ دور کی بات نہیں کچھ ہی عرصہ قبل کرد فوج اور شیعہ ملیشیا حشد الشعبی کے جنگجو طوزخورماتو اور کرکوک میں ایک دوسرے کے خلاف کئی لڑائیاں لڑ چکی ہیں۔

عراق کی سرکردہ تنظیمیں صوبہ کردستان کی علاحدگی کے حوالے سےہونے والی کوششوں پر متعدد بار انتباہ کرچکی ہیں۔ کرد ریاست کی آزادی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ترکی ہے۔ ترکی کی طویل سرحد عراق کےصوبہ کردستان سے متصل ہے۔ اسی طرح یہ صوبہ شام کی سرحد سے بھی ملتا ہے۔ شام اور ترکی دونوں کردوں کی الگ ریاست کے سخت خلاف ہیں۔ ترکی نے کردوں کی الگ ریاست کےقیام کی راہ روکنے کے لیے شام اور عراق میں اپنی فوجیں تک داخل کردی ہیں۔ ایسے میں خود مختار کرد ریاست کا قیام بھلا کیسے ممکن ہے۔ کردوں کو اگر اپنا ملک آزاد کرنا ہے تو انہیں ان تمام رکاوٹوں کو عبور کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں