.

تیونس : ڈرون ماہر انجینئر کے قتل پر پراسراریت کے پردے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حکومت اور سیاسی جماعتیں صفاقس شہر میں انجینئر محمد الزواری کے قتل کی واردات سے نمٹنے میں پریشانی کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمعرات کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے حوالے سے تیونس کے عوام کی رائے منقسم ہے۔

حکومت کی خاموشی

واقعے پر چار گزر جانے کے بعد تیونس کی حکومت نے چُپ سادھ رکھی ہے اور ابھی تک کوئی وضاحتی بیان تک جاری کرنا گوارہ نہیں کیا گیا۔ عوامی حلقوں کی جانب سے حقیقت جاننے کے سلسلے میں حکومت پر کافی دباؤ ہے۔ بالخصوص فلسطینی تنظیم "حماس" کے اس اعلان کے بعد کہ مقتول کا تنظیم کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈز" سے تعلق تھا۔ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی پراسرار خاموشی کے بیچ عوام کے اندر یہ گمان یقین کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ الزواری کو ختم کرنے میں اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

النہضہ موومنٹ کا موقف

تیونس میں اسلام پسند جماعت "النہضہ" نے سب سے پہلے بیان جاری کرتے ہوئے انجینئر محمد الزواری کے قتل کی سخت مذمت کی۔ جماعت کے سیاسی دفتر کے سربراہ نورالدین العرباوی کی جانب سے جاری بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ " کسی بھی تیونسی شہری کو ہلاک کیے جانے کے لیے ہونے والی کارروائی کو ریاست کی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا"۔

بعض حلقے النہضہ موومنٹ کے سیاسی دفتر کے سربراہ کے موقف کو تحریک کی جانب سے پیشگی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل العرباوی نے 18 دسمبر کو ایک مقامی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ " یقینا محمد الزواری کا النہضہ موومنٹ سے کوئی تعلق نہیں اور صفاقس میں تحریک کے دفتر سے ان کے تعلق کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں"۔

ادھر النہضہ موومنٹ کے سربراہ راشد الغنوشی نے اپنے بیان میں ہوابازی کے انجینئر محمد الزواری کے قتل کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے "بین الاقوامی شیطانی قوتوں" کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

سنجیدہ تحقیقات کا مطالبہ

تیونس کی سیاسی جماعت "پیپلز موومنٹ" نے ایک بیان میں مذکورہ کارروائی کو صہیونی عناصر کی جانب سے ملکی خود مختاری کی پامالی قرار دیتے ہوئے اس کی تمام تر ذمے داری تیونس کی حکومت پر عائد کی ہے۔ موومنٹ نے اس بزدلانہ مجرمانہ کارروائی کی سنجیدہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر ایک اور سیاسی جماعت "حزب البناء الوطنی" نے اپنے ایک بیان میں تیونسی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تر لازمی قانونی اقدامات کے ساتھ اس مجرمانہ کارروائی کو سلامتی کونسل سمیت تمام بین الاقوامی تنظیموں کے سامنے پیش کیا جائے۔