.

مصری قبطی کا دن دہاڑے سر قلم، ملزم کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شہر اسکندریہ میں ایک مصروف شاہراہ پر راہ گیروں کی موجودگی میں ایک شخص نے ایک قبطی عیسائی کو 'ذبح' کر دیا۔ مصری پولیس نے مشتبہ قاتل کی شناخت کرلی ہے اور اب اسے تلاش کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ خونی واقعہ منگل کی صبح اسکندریہ کے علاقے المنتزہ میں شاہراہ خالد بن ولید پر پیش آیا۔ پولیس نے مقتول قبطی کاروباری شخصیت یوسف لمعی کے تجارتی مرکز کے قریب لگے خفیہ کیمروں سے فوٹیج حاصل کر لی ہے اور اس کی چھان بین کے بعد قاتل کو شناخت کرلیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قبطی کے قتل میں ایک 49 سالہ شخص عادل عبدالنور السید سلیمان نامی شہری ملوث ہے۔ ملزم کے تصویری خاکوں پر مبنی تفصیلات اسکندریہ اور گردو ونواح کے اہم مقامات تک پہنچا دی گئی ہیں۔قبطی شہری کے قاتل کی ہلکی رنگ دار داڑھی ہے اور اس نے داڑھی کو خضاب لگا رکھی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو قبطی کے قتل کے واقعے کی ایک فوٹیج بھی موصول ہوئی ہے۔اس میں قبطی دکاندار اپنی دکان کے باہر بیٹھا دیکھا جاسکتا ہے۔اس دوران اچانک ایک شخص نمودار ہوا۔ اس نے اپنے کپڑوں میں تلوار چھپا رکھی تھی اور قبطی کے قریب جاتے ہی تلوار کے کئی وار کرکےاسے قتل کردیا۔ پہلے حملے میں شدید زخمی ہونے والے قبطی نے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کی مگر حملہ آور نے ایک اور زور دار ضرب لگائی جس کے نتیجے میں اس کا سرتن سے جدا ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔

فوری طور پر قبطی کے قتل کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ اس حوالے سے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ قبطی دکاندار یوسف لمعی اپنی دکان پر شراب فروخت کیا کرتا تھا اور یہ کاروبار بھی اس کی اندوہ ناک موت کا سبب ہوسکتا ہے۔ پولیس ملزم کی مذہبی انتہا پسند گروپوں سے وابستگی کے پہلو پر بھی غور کر رہی ہے۔