.

جب ملکہ برطانیہ کا محافظ اُن پر گولی چلانے والا تھا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار " دی ٹائمز" کے مطابق برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی زندگی میں ایک ایسا موقع بھی آیا تھا جب وہ اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں موت کے منہ میں جانے سے بچ گئیں۔ اُس روز رات کے آخری اور صبح کے پہلے پہر ملکہ حسب عادت شاہی محل کے صحن میں چہل قدمی کر رہی تھیں۔ اس دوران وہاں مامور محافظ نے جب تاریکی میں درمیانی شب تین بجے کے قریب ایک سائے کو بکنگھم پیلس میں چلتے ہوئے دیکھا تو وہ سمجھا کہ شاید یہ کوئی درانداز ہے جو محل کے اندرونی حصے تک پہنچ گیا ہے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر محافظ نے فوری طور پر چلّا کر کہا " یہ کون ہے ؟"۔ غور سے دیکھنے پر محافظ کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ یہ تو خود ملکہ تھیں جو نیند نہ آنے پر انتہائی تاخیر کے وقت تازہ ہوا میں ٹہلنے نکل کھڑی ہوئیں۔

محافظ نے فوری طور پر ملکہ کے سامنے اعتراف کیا کہ اگر وہ اس جانب جلد متوجہ نہ ہوتا کہ یہ خود ملکہ ہیں تو قریب تھا کہ وہ ہتھیار کا استعمال کر لیتا۔ اس پر ملکہ نے ازراہِ تفنن جواب دیا کہ "آئندہ جب میں بستر سے نکلوں گی تو اس سے پہلے گھنٹیاں بجا دیا کروں گی تاکہ تم مجھے ہلاک نہ کر دو"۔

اس کے بعد ملکہ نے سنجیدگی سے کہا کہ " تم جو کچھ کرنے والے تھے وہ بالکل درست تھا"۔

اگست 2016 میں برطانوی پولیس نے صبح کے چار بجے ایک 22 سالہ نوجوان کو پکڑا جو بکنگھم پیلس کی بیرونی باڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ محل کے اندر نصب سکیورٹی کیمروں کی نظر میں آ گیا۔

گزشتہ مئی میں 41 سالہ شخص ڈینس ہینسی بیرونی خاردار تاروں کو پھلانگنے میں کامیاب ہو گیا اور تقریبا 10 منٹ تک محل کے صحن میں آزادی کے ساتھ گھومتا رہا جب کہ ملکہ الزبتھ ، شہزادہ فلپ اور شہزادہ اینڈریو اس وقت محل کے اندر موجود تھے۔

جب اس شخص کو محافظین نے روکا تو وہ ان سے بار بار یہ ہی پوچھتا رہا کہ " کیا ماما اندر ہیں ؟ "…