سات مسلم ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی

فیصلے سے امریکا کو دہشت گردی کے حملوں سے بچاؤ میں مدد ملے گی: صدر ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارماہ کے لیے مہاجرین کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے اور شام سمیت سات مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے باشندوں کے داخلے پر بھی پابندی عاید لگا دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے دہشت گردی کے حملوں سے بچاؤ میں مدد ملے گی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدارتی حکم کے تحت شام کے علاوہ ایران ،عراق ،لیبیا ،صومالیہ ،سوڈان اور یمن سے تعلق رکھنے والے زائرین پر 90 روز کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔

اس حکم کے اجرا سے قبل صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز پینٹاگان کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ '' میں ریڈیکل اسلامی دہشت گردوں کو امریکا سے باہر رکھنے کی غرض سے جانچ پرکھ کے لیے نئے اقدامات کررہا ہوں۔ میں انھیں یہاں نہیں دیکھنا چاہتا ہوں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم صرف ان لوگوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینا چاہتے ہیں جو ہمارے ملک کی مدد کریں اور ہمارے لوگوں سے گہری محبت کریں''۔

شہری حقوق کے گروپوں نے اس اقدام کو امتیازی قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں مہاجرین خطرناک جگہوں پر پھنس کر رہ جائیں گے اور اس سے امریکا کی تارکین وطن کو قبول کرنے والے ملک کے طور پر شہرت کو بھی نقصان پہنچے گا۔

جمعے کی شب تک امریکی صدر کے اس نئے حکم کی تفصیل دستیاب نہیں ہوئی تھی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔تاہم اس کے فوری اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں اور خاندانوں کے ہمراہ امریکا آنے والے عربوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

امریکا ،عرب امتیاز مخالف کمیٹی کے قانونی اور پالیسی ڈائریکٹر عبد اے ایوب کا کہنا ہے کہ ''اس کے فوری اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان عرب امریکیوں کے لیے افراتفری کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے جن کے خاندان کے ارکان عارضی قیام کے لیے آرہے تھے۔

عبد ایوب کا کہنا تھا کہ اس حکم سے گرین کارڈ کے حاملین ،طلبہ اور علاج معالجے کے لیے امریکا آنے والے لوگ بھی متاثر ہوں گے۔

تارکین وطن کے لیے کام کرنے والی ایک پروٹیسٹنیٹ تنظیم چرچ ورلڈ سروس کی خاتون عہدے دار جین سمائرس کا کہنا ہے کہ اس حکم سے تو پہلے ہی مہاجرین اور ان کے خاندان متاثر ہورہے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایک عراقی ماں سے بات کی ہے۔اس کی 18 سال کی دو جڑواں بچیاں اس وقت عراق میں ہیں اور وہ پہلے کاغذات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے امریکا نہیں آ سکی تھیں اور اب تو وہ بالکل بھی اپنی ماں کے پاس نہیں آسکیں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال انتخابی مہم کے دوران میں کامیابی کی صورت میں مہاجرین کے داخلے کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی خوب چھان پھٹک کے بعد ہی انھیں امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی تاکہ بیرون ملک سے آنے والے جنگجوؤں کو امریکا میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔

شام اور عراق میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے 2014ء میں ظہور کے بعد مہاجرین کی بڑی تعداد نے یورپ اور امریکا کا رخ کیا تھا۔ان کے بھیس میں داعش کے جنگجو بھی یورپی ممالک میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے اور انھوں نے فرانس اور بیلجیئم میں تباہ کن حملے کیے تھے۔

صدر ٹرمپ کے نئے حکم کے تحت شامی مہاجر پروگرام تاحکم ثانی معطل کردیا گیا ہے۔البتہ انتقامی کارروائیوں سے جانیں بچا کر آنے والے مذہبی اقلیتی گروپوں کے امریکا میں داخلے کو ترجیح دی جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس سے خانہ جنگی سے بچ کر آنے والے شامی عیسائیوں کو مدد ملے گی۔

اوباما انتظامیہ میں امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کے سابق چیف کونسل اسٹیفن لیگموسکی کا کہنا ہے کہ صرف عیسائیوں کو امریکا میں ترجیحی طور پر داخل ہونے کی اجازت دینا ملکی آئین کی خلاف ورزی ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں