ایران : کروبی اور موسوی کے سبب جلد "انقلاب" بھڑک سکتا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں ہزاروں سیاسی کارکنان ، دانش وروں اور سماجی شخصیات نے حکام کے نام ایک کھلے خط میں سبز تحریک کے رہ نماؤں میر حسین موسوی ، ان کی اہلیہ زہرہ رہ نورد اور مہدی کروبی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تینوں شخصیات 2009 میں عوامی احتجاج کا طوفان اٹھنے کے بعد سے نظر بندی کا شکار ہیں۔

خط پر دستخط کرنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ اس مسئلے کا حل سامنے نہ آنے کی صورت میں بالآخر اس کا نتیجہ عوام اور حکومت کے درمیان خلیج وسیع ہونے کی صورت میں نکلے گا۔

دستخط کرنے والے افراد جن کی تعداد 20 ہزار کے قریب ہے.. ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی اور ناکامی کے جذبات جنم لیں گے اور ملک کے اندر نا امیدی اور عدم مسرت کے بادل چھا جائیں گے۔

اس سلسلے میں میر حسین موسوی کے نزدیک شمار کی جانے والی ویب سائٹ " کلمہ القریب" کا کہنا ہے کہ خط پر اپوزیشن کی بعض اہم شخصیات کے بھی دستخط ہیں جن کو سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے حکم پر گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں مصطفى تاج زادہ ، نرجس محمدی ، ریحانہ طباطبائی ، کیوان صمیمی ، عیسی سحر خیز ، مسعود باستانی ، بہمن احمدی اموئی ، جیلا بنی یعقوب ، سعید مدنی ، عبداللہ مومنی اور مہدیہ کلرو شامل ہیں۔

مذکورہ خط کے جسے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر زیر بحث لایا جا رہا ہے.. منظر عام پر آنے کے ایک روز بعد ایرانی رکن پارلیمنٹ محمود صادقی نے توقع ظاہر کی ہے کہ میر حسین موسوی ، ان کی اہلیہ زہرہ رہ نورد اور مہدی کروبی کی نظر بندی 20 مارچ کو “نوروز” کے تہوار سے قبل ختم کر دی جائے گی۔ اپنی ٹوئیٹ میں صادقی نے باور کرایا کہ "عدالت کی اجازت کے بغیر کسی بھی شخص کی نظر بندی آئین کے مخالف اقدام ہے"۔

ادھر تہران میں اٹارنی جنرل عباس جعفری دولت آبادی نے صادقی کے بیان پر فوری جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ " تینوں افراد کی نظر بندی یہ ایک قومی فیصلہ ہے جس میں بہت سے متعلقہ ادارے شامل ہیں"۔

دولت آبادی کے بیان کو اس امر کی تصدیق سمجھا جا سکتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی سطح پر رہائی کے مطالبات کے باوجود تینوں شخصیات کی نظر بندی جاری رہے گی۔

کلمہ ویب سائٹ کے مطابق موسوی ، کروبی اور رہ نورد نظربندی کے آغاز سے اب تک ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کے بغیر بیرونی دنیا کے ساتھ رابطے سے محروم ہیں۔ ان کے اہل خانہ سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں ان شخصیات کے ساتھ ہفتے میں صرف ایک گھنٹہ ملاقات کرتے ہیں۔

اس سے قبل ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای کی جانب سے اپوزیشن کی ان تینوں شخصیات کی نظر بندی کے خاتمے کے لیے چار شرائط رکھی گئی تھیں۔ ان میں اہم ترین شرط 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد ان شخصیات کی جانب سے ایرانی نظام کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کا واپس لیا جانا ہے۔

بنیاد پرست رکن پارلیمنٹ جواد کریمی کے مطابق خامنہ ای کی دوسری شرط "اسلامی انقلاب کے دشمنان کے ساتھ حدود مقرر کرنا" ہے۔ تیسری اور چوتھی شرط بالترتیب "زرِ تلافی کی ادائیگی" اور "اسلامی انقلاب کے خلاف مرتکب کارروائیوں پر سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہونا" ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں