.

قاسم سلیمانی کا ماسکو کا دورہ.. اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نیٹ ورک "فوكس نيوز" نے امریکی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم قدس فورس کا کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی ان دنوں روس کا دورہ کر رہا ہے جو اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔ سلیمانی کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں ہونے کے سبب اس کے سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔

امریکی چینل کے مطابق قاسم سلیمانی منگل کے روز ایرانی فضائی کمپنی "ماهان" کے طیارے کے ذریعے ماسکو پہنچا۔ کئی روز تک جاری رہنے والے دورے میں وہ روس کے ذمے داران کے ساتھ ملاقاتیں کرے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سلیمانی ماسکو کو روس کے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے قریب آنے اور ان کے ساتھ اسلحے اور تجارت سے متعلق معاہدے کرنے پر تہران کی جھنلاہٹ سے آگاہ کرے گا۔

امریکی سی آئی نے موضوع پر تبصرہ کرنے کے حوالے سے "فوكس نيوز" کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا جب کہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ انہیں اس معاملے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

گزشتہ دو برس کے دوران یہ چوتھا موقع ہے جب خبر رساں ایجنسیوں نے سلیمانی کے ماسکو کے دورے کا انکشاف کیا ہے۔ اس سلسلے میں آخری دورہ دسمبر 2015 میں تھا جب سلیمانی نے روسی صدر ولادیمر پوتن اور دیگر اعلی اہل کاروں سے ملاقاتیں کیں اور شام ، عراق ، یمن اور لبنان کی تازہ ترین صورت حال کو زیر بحث لایا گیا۔

اقوام متحدہ نے 2007 میں سلامتی کونسل کی قرار داد 1747 کے ذریعے قاسم سلیمانی اور دیگر ذمے داران کو بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر کے ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس اقدام کا بنیادی سبب ان افراد کا ایرانی میزائل پروگرام اور نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے والے میزائلوں کی تیاری کے منصوبے سے تعلق تھا۔

24 جون 2011 کو یورپی یونین نے شامی انقلاب کو کچلنے کے واسطے شامی سرکاری فوج کو سازوسامان فراہم کرنے پر قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی ، ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد علی جعفری اور پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کے سربراہ حسین طائب کا نام پابندیوں کی فہرست میں ڈال دیا تھا۔

امریکا نے بھی اگست 2012 میں سلیمانی کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل کر دیا تھا جن پر شامی حکومت کو ایران سے اسلحہ فراہم کرنے کے سبب پابندی عائد ہے۔

قاسم سلیمانی 2012 سے شام کے معرکوں میں پاسداران انقلاب ، لبنانی حزب اللہ اور عراقی ملیشیاؤں کی مداخلت کے انتظامی امور میں شریک ہے۔ وہ عراق ، افغانستان ، پاکستان اور لبنان سے تعلق رکھنے والی فرقہ ورانہ ملیشیاؤں کے تقریبا 70 ہزار جنگجوؤں کو شام لے کر آیا جس نے شامی عوام کے انقلاب کو ایرانی رسوخ کی توسیع کے مفاد میں فرقہ ورانہ تنازع میں تبدیل کر دیا۔