لبنان کے صدر جوزف عون نے جمعے کے روز کثیر القومی اتحاد قائم کرنے کے لیے فرانس اور اٹلی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ جیسا کہ لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج (یونی فِل) کا مینڈیٹ سال کے آخر میں ختم ہو رہا ہے تو یہ کثیر القومی اتحاد اس کی جگہ سنبھالے گا۔
جنوبی لبنان میں موجود یونی فِل تقریباً 50 ممالک کے تقریباً 7,500 اہلکاروں پر مشتمل ہے اور یہ 1978 سے قائم ہے اگرچہ اس کی موجودگی سے بار بار پھیلنے والے تنازعات نہیں رک سکے۔
گذشتہ اگست میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی دباؤ پر 31 دسمبر 2026 کو یونی فل کا مینڈیٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایک بیان میں عون نے کثیر القومی اتحاد کے اقدام کو "لبنان کی خودمختاری اور استحکام کی حمایت کے لیے بین الاقوامی عزم کا مخلصانہ اظہار" قرار دیا۔
جمعرات کو اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی سے ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا، لبنان کی خودمختاری اور اس کی مسلح افواج کو مضبوط بنانے" اور اس کی زمین کو "علاقائی کشدگی کا مقام بننے سے روکنے" کے لیے فرانس اور اٹلی "یونی فل کے بعد والے انتظامات کے لیے ایک اتحاد شروع کرنا چاہتے ہیں جو ظاہر ہے کہ یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے ہمراہ ہو گا۔
فرانس یونی فل کے سب سے بڑے تعاون کنندہ ممالک میں سے ایک ہے۔
عون نے لبنان کی "کسی بھی بین الاقوامی فارمولے میں دلچسپی پر زور دیا جو اس کی مسلح افواج کی صلاحیتیں مضبوط کرے، اس کی علاقائی سالمیت محفوظ رکھے اور اس کی سرزمین کو کشیدگی یا علاقائی تناؤ کا میدان بننے سے روکے۔"
اسرائیل-حزب اللہ جنگ بندی کی نگرانی اور لبنانی مسلح افواج کی معاونت کے لیے سربراہ اقوامِ متحدہ انتونیو گوٹیرس نے اس ماہ کے شروع میں تقریباً 2,000 سے لے کر 5,500 سے زیادہ اہلکاروں تک کے تین اختیارات تجویز کیے تھے۔