.

ایران خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کرے: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے۔ انقرہ حکومت نے کہا ہے کہ ترکی کسی طور ایران کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتا ہے۔

بدھ کے روز انقرہ میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم کالین نے ایک پریس کانفرنس میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اراضی پر غیر قانونی بستیوں کی آبادی کاری کی پالیسی ترک کر دے۔

اس سے قبل ایردوآن مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر بڑھانے سے متعلق اسرائیلی فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے "مطلق اشتعال انگیزی" قرار دے چکے ہیں۔

ایردوآن کے ترجمان نے بدھ کے روز کہا کہ ترکی اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ یورپی یونین جلد از جلد ویزے کے بغیر تُرک شہریوں کے یورپ کے سفر کی اجازت کے لیے اقدامات کرے گی۔ ترکی اور یورپ کے درمیان مہاجرین کے معاہدے میں یہ بات شامل ہے کہ انقرہ حکومت غیر قانونی مہاجرین کے یورپ میں داخلے کو روکے گی اور اس کے بدلے ترکی کو امداد ملنے کے علاوہ ترک شہریوں کو ویزے سے مستثنی قرار دیا جائے گا۔

ویزوں سے متعلق معاہدے پر عمل درامد ترکی کے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے حوالے سے اختلاف کے سبب کھٹائی میں پڑا ہوا ہے جن کے متعلق یورپی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی غیر مؤثر ہیں۔

صدارتی ترجمان نے بتایا کہ مئی میں نیٹو کے سربراہ اجلاس سے قبل ایردوآن اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات کی ترتیب عمل میں لائی جا رہی ہے۔

ایردوآن کے ترجمان کالین کا کہنا ہے کہ یونان کے ساتھ انضمام سے متعلق 60 برس قبل ہونے والے ریفرنڈم کی یاد منانے کے حوالے سے یونانی قبرصیوں نے جو فیصلہ کیا ہے.. اس کا بحر روم میں واقع جزیرے کے اتّحادِ نو کی بات چیت پر منفی اثر مرتب ہوگا۔

کالین کے مطابق وہ امید رکھتے ہیں کہ یونانی قبرصی اپنے فیصلے کو واپس لے لیں گے۔