.

ایران کے سابق مذہبی پیشوا آیت اللہ منتطری کا بیٹا گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پولیس نے اہل تشیع کے ایک سابق سرکردہ مذہبی پیشوا آیت اللہ علی منتظری کے بیٹے کو ایرانی رجیم پر تنقید کی پاداش میں حراست میں لے لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مرحوم آیت اللہ حسین علی منتظری کی ویب سائیٹ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے کل 22 فروری کو احمد علی منتظری کو عدالت میں طلب کیا اور بغیر وارنٹ کے انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں مذہبی رہ نماؤں سے پوچھ تاچھ کے لیے قائم کردہ خصوصی عدالت میں طلبی کے ایک گھنٹے بعد احمد نے اپنے اہل خانہ سے رابطہ کیا اور اپنی گرفتاری کی خبر دی۔

خیال رہے کہ احمد علی منتظری کی گرفتاری حال ہی میں لیک ہونے والی ان کی ایک صوتی ٹیپ ریکارڈنگ کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی ہے جس میں انہیں ایرانی حکومت کے زیرانتظام ’ڈیتھ سیل‘ کے بارے میں اپنے والد سے بات کرتے سنا گیا ہے۔ انہوں نے اس ڈیٹھ سیل کی شدید مذمت کی تھی جو مبینہ طور پر سنہ 1988ء میں قیدیوں کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارے جانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس آڈیو ریکارڈنگ کے منظر عام پرآنے کے بعد ایران کے مذہبی حلقوں کی طرف سے احمد منتظری پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

قبل ازیں مذہبی عدالت احمد منتظری کو قومی راز افشاء کرنے کے الزام میں ان کی مذہبی خلعت سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں قید کی سزا بھی سنا چکی ہے۔