.

تیونس : بدعنوانی کی اطلاع سے متعلق اہم قانون منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں پارلیمنٹ نے بدعنوانی کی اطلاع اور اطلاع کنندگان کے تحفظ سے متعلق ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون بدعنوانی کی اُس بڑھتی ہوئی آفت کے "انسداد" میں مددگار ثابت ہوگا جو ملک کی معیشت کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

بدھ کی شام ہونے والے خصوصی اجلاس میں کُل 217 ارکان پارلیمنٹ میں 145 نے شرکت کی اور تمام حاضر ارکان نے مذکورہ قانون کے حق میں ووٹ دیا۔

پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر عبدالفتاح مورو نے رائے شماری کے بعد کہا کہ یہ قانون 2011 میں زین العابدین بن علی کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے "انقلاب کے لیے کامیابی" ہے۔ تیونس میں پبلک سروس اور گورننس کے وزیر عبید البریکی نے قانون کی منظوری کے بعد ارکان پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " اس قانون کے مماثل طاقت ور قانون سازی ہمارے لیے انسداد بدعنوانی کے عمل کو آسان بنا دے گی"۔

اگست 2016 میں وزیر اعظم یوسف الشاہد کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تاہم مطلوبہ قوانین کے نہ ہونے کے سبب حکومت کو بدعنوانی کے انسداد کے میدان میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

نئے قانون میں بدعنوانی کے اطلاع کنندگان کے خلاف بالخصوص جب وہ سرکاری سیکٹر کے ملازمین ہوں.. کسی بھی صورت میں "انتقامی کارروائی" کو جُرم قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح بدعنوانی کی اطلاع دینے والے افراد کو "دھمکانا" بھی جرم شمار ہوگا۔

یاد رہے کہ تیونس میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بدعنوانی کے تقریبا 90% معاملات عوامی خدمات کے اداروں کی انتطامیہ کے خلاف ہیں۔ بدعنوانی کے اطلاع کنندگان کی اکثریت ان اداروں کے ملازمین ہیں۔ انتظامیہ میں بدعنوانی کی مذمت کرنے والے بہت سے ملازمین کو تنخواہیں روک دیے جانے یا تادیبی کارروائی یہاں تک کہ " پیشہ ورانہ رازوں کے اِفشا" کرنے کے حوالے سے مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

انتقام کے خوف اور اطلاع کنندگان کے تحفظ کا قانون نہ ہونے کے سبب 2016 میں تیونس میں صرف 5% افراد نے خود کو درپیش بدعنوانی سے آگاہ کیا۔

عالمی بینک کے مطابق انتظامیہ کے غیر مؤثر ہونے کے باعث تیونس کو ہر سال مجموعی مقامی پیداوار میں دو پوائنٹ کے خسارہ ہوتا ہے۔

سال 2010 میں بدعنوانی سے متعلق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں تیونس 59 ویں نمبر پر تھا جب کہ 2016 میں وہ 75 ویں نمبر پر آ گیا۔