شام کے حوالے سے آستانہ مذاکرات کا دوسرا دور 14 مارچ کو ہوگا
شام میں دیر پا قیام امن اور انتقال اقتدار کے حوالے سے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی جنیوا چہارم مذاکرات جاری ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا نے کہا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان روس کی نگرانی میں آستانہ میں مذاکرات کا دوسرا دور 14 مارچ کو ہوگا۔
قبل ازیں شامی اپوزیشن کے مندوب نصر الحریری نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے مندوب نے انہیں بتایا ہے کہ روس کے دباؤ کے بعد شامی حکومت انتقال اقتدار کے موضوع پر مذاکرات کے لیے تیار ہوگئی ہے۔
تاہم جنیوا میں جاری مذاکراتی ٹیم میں شامل اسامہ ابو زید نے تازہ بات چیت میں کسی قسم کی پیش رفت کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے حامی عرب دوست ممالک کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ اگر ایرانی اسد رجیم کی طرف سے مذاکرات میں شامل ہوسکتا ہے توعرب ممالک کو بھی بات چیت میں شامل کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن رہ نما نصر الحریری کا کہنا ہے کہ اسد رجیم سیاسی عمل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ نہتے شہریوں پر بمباری جاری ہے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں امن بات چیت کو تعطل میں ڈالا جا رہا ہے۔
-
آستانہ میں ایک دن کی تاخیر کے بعد شام امن مذاکرات
قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ایک دن کی تاخیر کے بعد شامی حکومت اور حزبِ ...
مشرق وسطی -
''آستانہ مذاکرات ناکام ہوئے تو مسلح جدوجہد جاری رہے گی''
حزب اختلاف اقتدار میں اپنا حصہ لینے کے لیے مذاکرات میں شریک نہیں ہورہی: محمد علوش
بين الاقوامى -
آستانہ مذاکرات : ایران اور روس میں شام پر اختلاف کیوں ہے؟
واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں نئی انتظامیہ اقتدار سنبھال رہی ہے ،ایسے میں ...
سیاست