مغربی صحارا کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

افریقی ملک مراکش اور مغربی صحارا کی علاحدگی پسند تنظیم ’لبریشن فرنٹ‘ پولیساریو کے درمیان تنازع کے حل کے لیے متعین اقوام متحدہ کے امن مندوب کریسٹوفر روس نے آٹھ سال بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہےْ

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک ذمہ دار ذریعے نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ کریسٹوفر روس نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو تحریری طور پر استعفیٰ پیش کیا تھا۔

ادھر اقوام متحدہ کےسیاسی امور کے ایک اہم عہدیدار جیفری فیلٹمن نے کہا ہے کہ مسٹر روس نے آٹھ سال تک مغربی صحارا اور علاحدگی پسند تنظیم پولیساریو کےدرمیان تنازع کے حل کے لیے کوششیں کی۔

انہوں نے کہا کہ کریسٹوفر روس کی ان تھک کوششوں کے باوجود شاہ مراکش اور پولیساریو کےدرمیان کوئی امن معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے اور نہ ہی فریقین مذاکرات پر آمادہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کریسٹوفر روس نے استعفیٰ اس لیے دیا تاکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوئی مناسب فیصلہ کر سکیں۔

خیال رہے کہ مراکش نے مغربی صحارا پر سنہ 1975ء میں کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس سے قبل یہ اسپین کی کالونی شمار کیا جاتا رہا ہے۔ رباط کا موقف ہے کہ مغربی صحارا مراکش کا اٹوٹ انگ ہے جب کہ پولیساریو لبریشن فرنٹ مغربی صحارا کی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتی ہے۔ پولیساریو کا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کے ذریعے مغربی صحارا کے عوام کے حق خود ارادیت کا فیصلہ کیا جائے۔

مسلسل سولہ سال جنگ جاری رہنے کے بعد مغربی صحارا میں سنہ 1991ء میں جنگ بندی ہوئی تھی جس کے بعد مغربی صحارا میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن تعینات کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں