.

ارکان پارلیمان کو روسی دورے میں موبائل ساتھ لانے سے روک دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں یورپی ملک ڈنمارک کی خارجہ پالیسی کمیٹی کے ارکان نے روس کا دورہ کیا تو پتا چلا کہ دورہ کرنے والے ارکان پارلیمان اپنے موبائل فون اور’ پی سی ٹیبلٹ‘ ساتھ نہیں لائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جب اس اقدام کی وجہ معلوم کی گئی تو پتا چلا کہ ان ارکان کو کہا گیا تھا کہ وہ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ایسا کوئی آلہ اپنے ہمراہ نہ لے کرجائیں جس سے ان کے لیے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔

فریڈم سماج پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق ڈینش وزیر خارجہ مارٹن لیڈگارڈ نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا کہ ’الوداع اسمارٹ فون’۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ’ہم روس روانہ ہو رہے ہیں۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ اسمارٹ فون اور اس طرح کی دیگر اشیاء ہماری سلامتی کےلیے مسئلہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے ہم انہیں ساتھ نہیں لے جاسکتے‘۔

ڈنمارک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سماج فریڈم پارٹی کے رہ نما نیک ھیکروپ نے فیس بک پر لکھا کہ ’ہم ایک ہفتے تک انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، ای میل اور سوشل میڈیا کی دنیا سے دور رہیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے کہا گیا کہ میں روس کے دورے کےدوران ہر وہ چیز جو میری سلامتی کے لیے خطرہ بنے ساتھ نہیں لے جاسکتا۔ ان میں موبائل فون، اسمارٹ فون اور پی سی ٹیبلٹ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ ڈینش وزارت دفاع کے زیرانتظام انٹرنیٹ سیکیورٹی یونٹ کی طرف سے فروری میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سنہ 2015ء اور 2016ء کے دوران غیرملکی ہیکروں نے ایک دوسرے ملک کی سرپرستی میں ڈنمارک کی متعدد وزارتوں پر سائبر حملے کیے تھے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چین اور روس سائبر جاسوسی کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔