میرا بیٹا دہشت گرد نہیں، چرس کا عادی تھا:اورلی حملہ آورکے والد
فرانس کے اورلی ہوائی اڈے پر فوجی سے بندوق چھیننے اور جوابی کارروائی میں مارے جانے والے مشتبہ شدت پسند زیاد بن القاسم کے والد کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا دہشت گرد نہیں تھا۔ اس نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ منشیات کے استعمال شراب نوشی اور چرس کا نتیجہ ہے۔
فرانسیسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ’یورپ 1’ ریڈیو سے بات کرتے ہوئے مقتول بن القاسم کے والد نے کہا کہ اس کا بیٹا دہشت گرد نہیں تھا۔ اس نے زندگی میں کبھی نماز تک ادا نہیں کی۔ وہ شراب پیتا اور چرس استعمال کرتا تھا۔ اس نے جو کچھ کیا وہ اس منشیات کے استعمال کا نتیجہ تھا۔
مقتول مشتبہ حملہ آور کے والد نے بتایا کہ زیاد بن القاسم نے اورلی ہوائی اڈے کی طرف روانگی سے قبل مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ سخت اضطراب میں تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ ’آپ نے پولیس افسر کے معاملے میں غلطی کی، اب آپ مجھے اجازت دیں‘ اس کے ساتھ ہی اس نے فون بند کیا، ایک کار چوری کرنے کے بعد ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد بن القاسم کے والد نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ اسی اثناء میں اس کے بیٹے کے قتل کی خبر بھی آگئی تھی۔
خیال رہے کہ زیاد بن القاسم نے ہفتے کے روز جنوبی فرانس کے اورلی ہوائی اڈے میں داخل ہوکر ایک پولیس اہلکار سے اس کی بندوق چھین لی تھی، جس پر دوسے اہلکاروں نے فوری کارروائی کر کے اسے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔
موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بن القاسم نے بندوق چھیننے کے بعد ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا اور ساتھ ہی اس نے کہا کہ وہ اللہ کی خاطر مرنے کے لیے آیا ہے۔
-
اورلی حملہ آور کے متعلق نئے انکشافات: "شدت پسند" جان دینے آیا تھا
فرانس میں حکام نے دارالحکومت پیرس کے اورلی ہوائی اڈے کے حملہ آور سے متعلق نئی ...
بين الاقوامى -
پیرس: اورلی ہوائی اڈے پر فوجی سے بندوق چھیننے والا ہلاک
سکیورٹی فورسز نے گولی مار دی ،ہوائی اڈا عارضی طور پر بند ، متعدد پروازیں منسوخ
بين الاقوامى -
برسلز میں بم حملے میں ملوّث ابرینی پر پیرس حملوں کی فردِ جرم عاید
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کے ہوائی اڈے پر بم حملے کے شبے میں گرفتار محمد ابرینی ...
بين الاقوامى