دہشت گردی کی مذمت، محجب خواتین کی لندن میں ہاتھوں کی زنجیر
دہشت گردی کے خلاف مسلمان خواتین کا منفرد رد عمل
برطانیہ میں چند روز قبل پارلیمنٹ ہاؤس کےقریب دریائے ٹیمز پر بنے ویسٹ منسٹر پل پر دہشت گردی کے ایک واقعے کے رد عمل میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر مسلمان خواتین نے گذشتہ روز ویسٹ منسٹر پل پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دہشت گردی کے ناسور کے خلاف منفرد نوعیت کا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ویسٹ منسٹر پل پر مسلمان خواتین کی بڑی تعداد نے حجاب پہن کر حالیہ دہشت گردی کے خلاف احتجاج کیا اور ہاتھوں کی زنجیر بناتے ہوئے دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد سے اپنی یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔
با حجاب خواتین کا ہاتھوں کی زنجیر کے ذریعے ان خواتین نے یہ پیغام دیا کہ اسلام کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کا مرتکب چاہے مسلمان ہو یا غیرمسلم ہو مسلمان اس کی یکساں مذمت کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ اسی ویسٹ منسٹر پل پر گذشتہ ہفتے ایک شخص نے قصدا اپنی گاڑی سے کئی راہ گیر کچل ڈالے تھے جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں راہ گیروں اور سیاحوں کو کچلنے والا شخص بھی ہلاک ہوگیا تھا۔ بعد ازاں اس کی شناخت خالد مسعود کے نام سے کی گئی تھی جو ایک نو مسلم بتایا گیا ہے۔
گذشتہ روز اسی دہشت گردی کے واقعے کے خلاف دسیوں محجب خواتین نے قطار میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کچھ دیر کی خاموشی اختیار کی۔ پل کے دونوں اطراف کھڑی خواتین نے یہ پیغام دیا کہ اسلام امن کا مذہب اور اس کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ پل پر جمع تمام محجب خواتین دہشت گردی کی کارروائی کو مسترد کرتی ہیں۔
اگرچہ محجب خواتین کی ہاتھوں کی زنجیر کا مظاہرہ پانچ منٹ تک جاری رہا مگر اسے برطانوی ذرائع ابلاغ میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ محجب خواتین کے ہاتھوں کی زنجیر بنانے کی تصاویر لینے کے بعد فوٹوگرافروں کی بڑی تعداد بھی ویسٹ منسٹر پل پر پہنچ گئی تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ویسٹمنسٹر پل پر دہشت گردی کی مذمت کے لیے جمع ہونے والی خواتین کا تعلق مختلف مکاتب فکر سے تھا۔ ان میں عرب نژاد، مقامی مسلمان خواتین اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل تھیں۔
اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق ویسٹ منسٹر پل پر احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کرنے والی ایک 40 سالہ خاتون فریحہ خان نے کہا کہ ہمارے یہاں جمع ہونے کا مقصد گذشتہ بدھ کے روز ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں اس شعور کو اجاگر کرنا تھا کہ مسلمان خواتین دہشت گردی کی ہر صنف کو مسترد کرتی ہیں۔
ستاون سالہ سارہ وسیم نے کہا کہ لندن حملے کے بعد ایسے لگا کہ اب ہم سب دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا ہدف اور کوئی نہیں، ان کی کارروائیوں کا پہلا نشانہ اسلام ہے کیونکہ ایسی کارروائیوں سے اسلام بدنام ہو رہا ہے۔
-
لندن : جائے حادثہ سے گزرتی باحجاب خاتون پر سخت تنقید کیوں ؟
سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک باحجاب خاتون کو جو کہ غالبا عرب ہے بڑی سرگرمی سے موضوع ...
مشرق وسطی -
لندن دہشت گردی سے خوف زدہ خاتون دریا میں کود پڑی
بدھ کے روز برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں دہشت گردی کے واقعے کے دوران ایک خاتون نے ...
بين الاقوامى -
لندن میں حملہ کرنے والے برطانوی شہری کی شناخت
52 سالہ خالد مسعود سکیورٹی سروسز کا جانا پہچانا چہرہ تھا، چند سال قبل زیر تفتیس ...
بين الاقوامى -
غلطی سے لندن حملے کا مورودِ الزام ٹھہرایا جانے والا برطانوی کون ؟
لندن میں بدھ کے روز پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے کے بعد غلطی سے ایک مسلم برطانوی ...
مشرق وسطی -
لندن: پارلیمان کے باہر فائرنگ، کارحملہ، 4 افراد ہلاک، 29 زخمی
برطانوی دارالحکومت لندن میں پارلیمان کے باہر دہشت گردی کے ایک مبیّنہ حملے میں چار ...
بين الاقوامى -
لندن : زخمی پولیس اہل کار کو بچانے کی کوشش کرنے والا دلیر وزیر
لندن حملے کے واقعے کے دوران برطانوی پارلیمنٹ کے ایک رکن کی جانب سے انسان دوستی کی ...
بين الاقوامى