.

امریکا کا یمن کے حوثی باغیوں کی مالی اور مادی مدد پر ایران کو انتباہ

حوثی باغی بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرہ بن گئے : جنرل جوزف ووٹل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو ایک مرتبہ پھر یمن کے حوثی باغیوں کی مالی اور مادی مدد پر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ حوثی باغیوں کی سرگرمیوں سےآبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں جہازرانی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

امریکا کی مسلح افواج کی مرکزی کمان کے سربراہ آرمی جنرل جوزف ووٹل نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے یہ انتباہ جاری کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا یہ نہیں چاہتا کہ یمن کی سرزمین اس کے خلاف حملوں کے لیے ایک پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو۔

واضح رہے کہ آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو بحرہند سے ملاتی ہے اور یہ عالمی تجارت کے لیے بڑی تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ ہے۔

جنرل ووٹل نے کہا کہ’’ مجھے خطے میں جہاز رانی کے لیے ایک اور رکاوٹ ، متنازعہ آبی چیک پوائنٹ پر تشویش لا حق ہے‘‘۔وہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں امریکا کی کشیدگی کا حوالہ دے رہے تھے۔

ان کے کانگریس کی کمیٹی میں اس انتباہ سے چند روز قبل وائٹ ہاؤس کے عہدہ داروں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ یمن کی تزویراتی اہمیت کی حامل الحدیدہ کی بندرگاہ کو آزاد کرانے کے لیے حوثی ملیشیا گروپ کے خلاف پابندیاں لگانےعاید کرنے پر غور کررہی ہے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران میں ایسی رپورٹس بھی منظرعام پر آچکی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نے حوثی باغیوں کی میزائل صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے تا کہ وہ یمنی دارالحکومت صنعا سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے سعودی سرزمین کو نشانہ بنا سکیں۔ حوثی باغی گذشتہ سال مکہ مکرمہ کی جانب بھی میزائل داغ چکے ہیں اور یہ میزائل طائف شہر کے نزدیک گرا تھا۔