.

بحرین کو ‘ایف 16‘ طیاروں کی فروخت کا معاملہ دوبارہ کانگریس میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے کانگریس کو مطلع کیا گیا ہے کہ حکومت خلیجی ریاست بحرین کے ساتھ پانچ ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے جس کے تحت منامہ کو 19’ ایف 16‘طیاروں کی فروخت شامل ہے۔

غیرملکی خبررساں اداروں کے مطابق کانگریس کے ذریعے کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت بحرین کو دفاعی سامان تیار کرنے والی لاک ہیڈ کمپنی کے تیار کردہ دیگر آلات بھی فراہم کرنے کو تیار ہے۔ قبل ازیں گذشتہ برس انسانی حقوق کے خدشات کے پیش نظر بحرین کے ساتھ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔

گذشتہ برس ستمبر میں صدراوباما کے دور میں وزارت خارجہ نے کانگریس کو بحرین کے ساتھ دفاعی ڈیل کے بارے میں مطلع کیا تھا۔

کانگریس کی جانب سے یہ کہہ کر ڈیل پرعمل درآمد روک دیا تھا کہ اسے بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش ہے اور انسانی حقوق کی صورت حال بہتر ہونے کی یقین دہانی تک اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔

اس بار کانگریس کی جانب سے بحرین کو جنگی جہازوں کی فراہمی کی عزم پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا کانگریس اب کی بار بھی انسانی حقوق کی آڑ میں منامہ کے ساتھ دفاعی ڈیل میں رکاوٹ کھڑی کرے گی یا نہیں۔

امریکی حکومت اور بحرین کے درمیان دفاعی ڈیل میں 4.867 ارب ڈالر کے بدلے میں انیس ایف سولہ جنگی جہاز، طیاروں کے 23 انجن، راڈار، الیکٹرانک آلات، فضا سے فضا اور فضا سےزمین پرمار کرنے والے دیگر میزائل بھی شامل ہیں۔ مگر کانگریس کی جانب سے بحرین میں انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش کے بعد اس معاہدے پرعمل درآمد نہیں ہوسکا۔