.

اوباما کے بعد، واشنگٹن میں ایرانی لابی کی پوزیشن؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں امریکا میں ایرانی لابی کے کردار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اس دوران یہ لابی تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعلانیہ وساطت کار بن گئی تھی۔ تہران اور چھ بڑے ممالک کے درمیان نیوکلیئر معاہدے پر دستخط میں اس لابی کا نمایاں کردار رہا۔ یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وہائٹ ہاؤس میں آمد پر "تمام امور پھر سے نقطہ صفر" پر واپس آ گئے۔ ان خیالات کا اظہار National Iranian American Council (نیاک) کے بانی ہوشنک امیر احمدی نے کیا۔ یہ کونسل واشنگٹن میں تہران کی پالیسیوں کی حامی لابی کی پیروی کرنے والی ہے۔

احمدی جو تہران کی ہمنوا لابی کی ایک اہم ترین شخصیت شمار کیے جاتے ہیں ان کے مطابق ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات واپس صفر کی پوزیشن پر آ گئے ہیں۔

احمدی ان دنوں اپنے ملک ایران کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے "انتخاب" ویب سائٹ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ " ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان ہنی مون اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات استوار کرنے اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کروانے کی کوشش کرنے والے تمام لوگ جا چکے ہیں"۔

امریکا میں اس وقت "نیاک" کے سربراہ سویڈن کی شہریت رکھنے والے ایرانی نژاد ٹریٹا پارسی ہیں جو واشنگٹن میں مقیم ہیں۔

واشنگٹن میں ایرانی ہمنوا لابی کے ایک اہم ترین مخالف ایرانی محقق حسن داعی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اوباما کے دور میں مسٹر ٹریٹا پارسی نے ایرانی نقطہ ہائے نظر امریکی انتظامیہ تک پہنچانے کے لیے 33 مرتبہ وہائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔

امریکا میں ایرانی لابی پارسی کی سربراہی میں اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ ہر آنے والی امریکی انتظامیہ اور فیصلہ کرنے والے عناصر کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے باقی رہنے اور مشرق وسطی میں رسوخ کی تقسیم کے حوالے سے تصفیے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں کونسل کے دیگر مقاصد بھی ہیں جن میں بالخصوص خلیجی ممالک اور بالعموم عربوں کی تصویر مسخ کرنا شامل ہے۔

احمدی کا کہنا ہے کہ "درحقیقت مجھے نہیں معلوم کہ اب اوباما اور یہاں تک کہ جان کیری کہاں ہیں.. پالیسی کے لحاظ سے امریکا ایران کی طرح نہیں جہاں ذمے دار اپنا منصب نہیں چھوڑتا یا پھر 30 برس بعد اس پر لوٹ آتا ہے۔ اوباما اور ان کے گرد رہنے والے لوگ اقتدار میں 8 برس کے لیے تھے اور اب وہ جا چکے ہیں۔"

نیاک کے بانی نے انکشاف کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور صدر حسن روحانی امریکا کا سفر کرتے تھے اور وہاں اعلی ترین سطح کی شخصیات سے ملاقاتیں کیا کرتے تھے تاہم اب وہ زمانہ گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "اس وقت کوئی ادارہ ایسا نہیں جو امریکا میں تہران کے مفاد میں کام کر سکے اور واشنگٹن میں ایران کے احوال کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔"