.

جی 7 اجلاس: امریکا سے شام میں میزائل حملوں کی وضاحت طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک کے وزرائے خارجہ کا سالانہ اجلاس اٹلی میں شروع ہوگیا ہے۔اس اجلاس میں یورپی ممالک اور جاپان نے امریکا سے شام سمیت مختلف اختلافی امور کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔

اٹلی کے شہر تسکانی میں یہ دو روزہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا نے اپنی بحریہ کے لڑاکا گروپ کو جزیرہ نما کوریا کے نزدیک بھیج دیا ہے جبکہ روس اور مغرب کے درمیان تعلقات کئی سال کی کشیدگی کے بعد بہتری کی جانب گامزن ہیں مگر شام کے معاملے پر امریکا اور روس میں نئی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

اس بات چیت میں شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی کا موضوع سرفہرست رہے گا کیونکہ شام میں امریکا کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔اٹلی کو یہ توقع ہے کہ اس اجلاس میں ایک حتمی اعلامیہ منظور کیا جائے گا اور اس میں شامی بحران کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کا کا اعادہ کیا جائے گا۔

اٹلی ،جرمنی ،فرانس ،برطانیہ ،کینیڈا اور جاپان کے وزرائے خارجہ امریکا کے نئے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن سے پہلی مرتبہ شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے اور ان سے اس بارے میں بھی گفتگو کریں گے کہ آیا امریکا اب شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دوسرے ممالک میں فوجی مداخلت کے حوالے سے متضاد اشارے دیے ہیں۔پہلے انھوں نے کہا تھا کہ اگر امریکا کے مفاد میں ہوا تو وہ دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بھی چشم پوشی کریں گے لیکن گذشتہ ہفتے شام کے شمالی صوبے ادلب میں اسدی فوج کے کیمیائی حملے کے ردعمل میں امریکا نے ایک فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے۔

تاہم شامی صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے ان کی انتظامیہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نیکی ہیلی نے اختتام ہفتہ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں نظام کی تبدیلی صدر ٹرمپ کی ترجیح ہے لیکن وزیر خارجہ ٹیلرسن نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کی پہلی ترجیح داعش کو شکست سے دوچار کرنا ہے۔

ان متضاد بیانات پر امریکا کے یورپی اتحادی بھی کنفیوژ ہیں، حالانکہ وہ دمشق میں انتقال اقتدار پر مبنی سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے امریکا کی مکمل حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ایک اطالوی سفارت کار نے بتایا ہے کہ اجلاس میں لیبیا میں جاری بحران، یوکرین میں عدم استحکام ،دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ایران کے ساتھ تعلقات سمیت مختلف سیاسی امور پر گفتگو کی جائے گی۔ البتہ کے علاوہ تجارت، موسمیاتی تبدیلیوں اور دوسرے پیچیدہ موضوعات کو جی سات کے مئی میں ہونے والے سربراہ اجلاس تک موخر کردیا جائے گا۔