بابری مسجد کی شہادت : بی جے پی کے تین لیڈروں پر مقدمہ چلانے کا حکم
بھارت کی عدالت عظمیٰ نے حکمراں ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے تین سینیر رہ نماؤں کے خلاف 1992ء میں مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کی شہادت پر مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
ایک وزیر سمیت ان تینوں لیڈروں پر انتہا پسند ہندوؤں کو بابری مسجد کی شہادت پر اکسانے کا الزام ہے۔انتہا پسند ہندوؤں کے جتھوں نے 6 دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں واقع سولھویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا۔اس کے بعد بھارت میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے اور ان میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی) کے مطابق عدالت عظمیٰ نے قراردیا ہے کہ وفاقی وزیر اوما بھارتی ،سابق نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔سپریم کورٹ نے یہ حکم ایک ماتحت عدالت کی جانب سے ان تینوں کے خلاف بھارت کے مرکزی ادارہ تحقیقات (سی بی آئی) کے عاید کردہ الزامات کو ختم کیے جانے کے بعد سنایا ہے۔تاہم اس حکم کے خلاف اپیلیں اور جوابی اپیلیں دائر کی جاسکتی ہیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق عدالت عظمیٰ کے ججوں نے کہا ہے کہ ’’ ہم نے سی بی آئی کی الہٰ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل بعض ہدایات کے ساتھ منظور کر لی ہے‘‘۔
واضح رہے کہ انتہا پسند ہندوؤں کا یہ موقف رہا ہے کہ بابری مسجد رام کے جنم استھان پر قائم ایک مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی تھی لیکن مسلمان اس موقف کو مسترد کرتے چلے آرہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ رام مندر کی جگہ اس کے نزدیک واقع تھی۔اب بی جے پی کے بعض لیڈر بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
عدالت نے بی جے پی کے ایک اور سینیر رہ نما کلیان سنگھ کے خلاف بھی مجرمانہ سازش کے الزام میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔وہ بابری مسجد کی شہادت کے وقت ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ تھے۔اب وہ ریاست راجستھان کے گورنر ہیں اور اس عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے انھیں استثنیٰ حاصل ہے اور اس سے سبکدوشی کے بعد ہی ان کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکے گا۔