.

سابق صدر محمد خاتمی کی انتخابات میں روحانی کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی نے 19 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر حسن روحانی کی بھرپور حمایت اور تائید کا اعلان کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق اپنے ایک ریکارڈڈ بیان میں سابق صدر نے ایرانی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کو دوسری مرتبہ کامیاب کرائیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق محمد خاتمی کا یہ بیان حال ہی میں سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پربھی شائع ہوا ہے۔ اس بیان میں سابق صدر کا کہنا ہے کہ ’پابندیوں اور بڑی بڑی مشکلات کے باوجود حسن روحانی نے کامیاب حکومت کی ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ منطقی ڈائیلاگ، قانون پر عمل درآمد اور شہری حقوق کی خاطر ایک بار پھر حسن روحانی کو موقع فراہم کریں‘۔

محمد خاتمی نے کہا کہ حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے سے قبل ایران میں افراط زر کی شرح 40 فی صد تھی۔ روحانی حکومت نے افراط زر کو کنٹرول کیا اور آج یہ شرح 9.5 فی صد ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملکی معیشت کو تباہی اور دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ یہ تمام ان کی کامیاب حکومت اور ’گڈ گورننس‘ کا واضح ثبوت ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے کے بعد ملک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2013ء میں بے روزگاری کی شرح 10.5 فی صد تھی جو اب 12.5 فی صد تک جا پہنچی ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 27 فی صد ہے۔

محمد خاتمی کا کہنا تھا کہ حسن روحانی کی حکومت نے کئی چھوٹے بڑے مسائل حل کئے ہیں لیکن کئی بڑے بڑے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ ان کے حل کے لیے ہمیں حسن روحانی کا ساتھ دینا چاہیے۔

خیال رہے کہ محمد خاتمی کا شکار ایران کے اصلاح پسند اور اعتدال پسند رہ نماؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات میں سبز انقلاب تحریک کی حمایت کی تھی جب لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر محمود احمدی نژاد کے صدر منتخب ہونے پر مظاہرے شروع کیے تھے۔

سنہ 2016ء میں سامنے آنے والی ایک ریکارڈنگ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ سنہ 2013ء میں صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کی کامیابی کے پیچھے محمد خاتمی کا اہم کردار تھا۔ اس کے علاوہ گذشتہ برس ایرانی پارلیمنٹ اور خبر گان کونسل کے انتخابات کے دوران بھی حسن روحانی کے حامیوں کی تعداد میں اضافے کے پیچھے محمد خاتمی کا کردار بتایا جاتا ہے۔