مالدیپ ، یمن اور لیبیا کی مشرقی حکومت کے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع
یمنی حکومت نے قطر کے ساتھ سفارتی اور سیاسی تعلقات منقطع کر لیے ہیں اور اس نے خلیجی ریاست پر اپنے دشمنوں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔
صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ قطر حوثی ملیشیا کے ساتھ معاملہ کاری کرتا رہا ہے اور اس کی جانب سے انتہا پسند گروپوں کی حمایت بالکل واضح ہوچکی ہے‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے فیصلوں کی حمایت کرتا ہے۔
مالدیپ نے بھی قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔اس نے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین ، مصر اور یمن کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔
امیر قطر شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی کے حالیہ بیانات کے بعد خلیجی ممالک کے درمیان نئی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور قطر کی جانب سے انتہا پسند اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے بعد اب سعودی عرب کے اتحادی ممالک اس سے تعلقات منقطع کررہے ہیں۔
لیبیا کے مشرقی علاقوں میں قائم حکومت نے بھی اپنے علاقائی اتحادیوں کے بعد قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں۔ اس حکومت کے لیبیا کے مشرقی شہر البیضا میں دفاتر قائم ہیں اور اس کی ملک کے بہت تھوڑے علاقوں میں عمل داری ہے۔اس حکومت کو لیبیا کے سابق جنر ل خلیفہ حفتر کی حمایت حاصل ہے۔