روس کا البغدادی کی ہلاکت سے متعلق گمان، بین الاقوامی اتحاد "متذبذب"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی میڈیا ایجنسی نے جمعے کے روز وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس اس بات کی سو فی صد تصدیق نہیں کر سکتا کہ داعش تنظیم کا سربراہ ابو بکر البغدادی ہلاک ہو چکا ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسیوں نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا تھا کہ غالبا ابو بکر البغدادی شام میں روس کے ایک فضائی حملے میں مارا جا چکا ہے۔

وزارت دفاع کے بیان کے مطابق البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ فضائی حملے میں 28 مئی کو الرقہ شہر میں داعش کی قیادت کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں " امیرِ رقّہ" اور داعش کا سکیورٹی سربراہ مارے گئے۔ اب اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ آیا اجلاس میں موجود داعش کا سربراہ ابو بکر البغدادی بھی فضائی حملے میں مارا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے اس امر پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ البغدادی کی ہلاکت کے حوالے سے روسی رپورٹوں کی تصدیق نہیں کر سکتا۔

یاد رہے کہ موصل میں لڑائی میں شدت آنے اور عراقی افواج کی پیش قدمی کے بعد اپریل میں متعدد امریکی ذمے داران نے اس غالب گمان کا اظہار کیا تھا کہ ابو بکر البغدادی موصل سے صحرائی علاقے کی جانب فرار ہو چکا ہے اور شاید وہ شام کے شہر الرقہ پہنچ چکا ہے۔

واضح رہے کہ آخری مرتبہ البغدادی کا اعلانیہ ظہور 2014ء میں موصل کی النوری جامع مسجد میں ہوا تھا جہاں اس نے خود کو داعش تنظیم کا "خلیفہ" اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں