.

قطری دستاویزات میں جنگجو شام بھجوانے کے مطالبے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی سرکاری فوج کے ترجمان نے قطر کی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے انکشاف کیا ہے ہے کہ دوحہ حکومت نے شام میں جنگجو بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کی نیشنل آرمی کے ترجمان کرنل احمد المسماری نے کہا ہے کہ انہیں قطر کی خفیہ دستاویزات ہاتھ لگی ہیں جن میں مغرب العربی افریقی ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے جنگجو شام بھیجیں۔

بنغازی شہر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کی طرابلس میں متعین قطر کے قائم مقام سفیر نائف عبداللہ العمادی نے شمالی افریقا اور مغرب العربی کے ملکوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے جنگجو اور رضاکار شام بھیجیں۔

لیبی فوج کے ترجمان نے الزام عاید کیا کہ قطر لیبیا میں عدم استحکام پھیلانے کا بھی ذمہ دار ہے۔ قطر کی طرف سے لیبیا میں لڑنے والے انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو مالی معاونت اور اسلحہ بھی مہیا کیا جاتا رہا ہے۔ کرنل المسمار کا کہنا ہے کہ انہیں ملنے والی خفیہ دستاویزات میں لیبی فوج کے افسران کے قاتلانہ حملوں میں ملوث عناصر اور قطر کے درمیان خفیہ ساز باز کا پتا چلتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر اس وقت بیرونی مداخلت کے نتیجے میں دہشت گردی سے متاثرہ ملکوں میں شامل ہے۔ قطری دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو دوسرے ملکوں سے مالی اور جنگی وسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔