.

ضامن ممالک میں اختلافات، پانچویں آستانہ مذاکرات تعطل کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں دیر پا قیام امن کے لیے قزاقستان کے صدر مقام آستانہ میں روس، ایران اور ترکی کی زیرنگرانی ہونے والے مذاکرات ان تینوں ضامن ملکوں کے باہمی اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔

تینوں ملکوں کے مندوبین نےبدھ کو ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے شام میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متوقع معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

’الحدث‘ ٹیلی ویژن کے نامہ نگار کے مطابق آستانہ میں منگل اور بدھ کے روز ہونے والے مذاکرات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی۔ تینوں ضامن ملکوں ایران، روس اور ترکی کے درمیان اختلافات ہیں۔ تینوں ملکوں نے اختلافات دور کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم ہے جو پہلے ضامن ممالک کے مواقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔

اسی سیاق میں روس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو نے شام سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ روسی وفد کاکہنا ہے کہ شام میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق سات دستاویزات پیش کی گئی ہیں۔ ان تمام دستاویزات کی روشنی میں امور کا طے کیا جانا ابھی باقی ہے۔

ادھر شام کے سرکاری وفد کے سربراہ بشار الجعفری نے ترکی پر شام میں امن معاہدے کو حتمی شکل دینے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ گذشتہ روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انقرہ کے موقف کی وجہ سے مذاکرات کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی رائے گاں گئی ہیں۔

مذاکرات کا دوسراگلا دور اگست میں ہوگا

شام میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کےلیے کوشاں تینوں ممالک ایران، روس ار ترکی نے آستانہ مذاکرات کا آئندہ اجلاس اگست کے پہلے ہفتے میں بلانے کا اعلان کیا ہے۔

کل بدھ کو آستانہ مذاکرات کے پانچویں دور میں مختلف وفود کی باہمی ملاقاتیں جاری رہیں۔ اس موقع پر شامی اپوزیشن کے کئی گروپ غیرحاضر تھے جب کہ مذاکرات میں شرکت کرنے والے اپوزیشن گروپوں نے بھی اسد رجیم پر مخصوص ایجنڈا مسلط کرنے کا الزام عاید کیا اور خبردار کیا کہ حکومت کی جانب سے من پسند حل مسلط کرنے کی کوششیں بات چیت کو ناکامی سے دوچار کریں گی۔

قبل ازیں منگل کے روز ضامن ممالک روس، ترکی اور ایران نے شام میں ایسے محفوظ زون کے قیام پر غور کیا جہاں شہریوں کو کم سے کم خطرات لاحق ہوں۔

اخبار ’الشرق الاوسط‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تینوں ملکوں کے درمیان شام میں مشترکہ مراکز کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان مراکز کی نگرانی تینوں ضامن ممالک مل کر کریں گے۔ کشیدگی سے محفوظ مقامات شمالی، جنوبی اور وسطی شام میں قائم کیے جاسکتے ہیں تاہم مشرقی الغوطہ اور حمص کے معاملے میں ایران کی مخالفت کی وجہ سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکی۔

اپوزیشن کو ایران پر تحفظات

شامی اپوزیشن نے جنگ بندی کے حوالے سے ایران کے کردار پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔ جیش الحرکے جنوبی محاذ کے ترجمان عصام الریس نے ’الحدث‘ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے آستانہ مذاکرات میں ایران کو ایک ضامن اور تیسرے ثالث کے طور پر قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کا شام کے جنوبی علاقوں میں موجود رہنا کسی صورت میں قبول نہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ روس کا موقف بھی ایران سے کسی طور مختلف نہیں۔ ماسکو ایک طرف جنگ بندی کی بات کرتا ہے مگر بمباری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔