.

’’القاعدہ اور اخوان المسلمون کے نظریے میں کوئی فرق نہیں ؟‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے اخوان المسلمون کی مادی و سیاسی مدد اور میڈیائی حمایت کے ذریعے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس سے نہ صرف ا س کے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں بلکہ پوری دنیا ہی کے لیے یہ ایک خطرہ ہے کیونکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے تمام گروپ کسی نہ کسی شکل میں اسی جماعت کے بطن سے برآمد ہوئےتھے یا پھر ان کے ڈانڈے اس سے جا ملتے ہیں۔

امیر قطر شیخ تمیم بن حمد نے عمان میں منعقدہ گذشتہ عرب سربراہ جلاس میں کہا تھا کہ ’’اخوان المسلمون ایک سیاسی حزب اختلاف ہے‘‘۔بعد میں قطری میڈیا اسی مفروضے کو فروغ دینے میں لگا رہا تھا اور اس نے عالمی پابندیوں کے شکار شام کے النصرہ محاذ کے لیڈر کو ایک قابل قبول لیڈر کے طور پر متعارف کرانے کی بھی کوشش کی تھی۔

النصرہ محاذ نے عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے القاعدہ سے ناتا توڑ لیا تھا اور اپنا نام تبدیل کرکے فتح الشام محاذ رکھ لیا تھا۔پھر ایک روز اس کے سربراہ ابو محمد الجولانی الجزیرہ نیوز چینل کے ایک پروگرام میں میزبان نمودار ہوئے تھے۔

الجزیرہ کے اینکر احمد منصور نے اس پروگرا م میں ابو محمد جولانی کو مخاطب کرکے کہا: ’’آپ کی حکمت عملی خاص طور پر جہاد کے معاملے میں، اخوان المسلمون سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے تو پھر آپ لوگ اخوان المسلمون کے ارکان کیوں نہیں بن جاتے؟آ پ القاعدہ سے ناتا جوڑ کر دنیا کو اپنے پیچھے لگانے کے بجائے خود کو اخوان کے کارکنان کیوں نہیں قرار دے دیتے‘‘۔

الجزیرہ کی جولانی کو اخوان المسلمون کا کارکن تسلیم کرانے کی یہ ایک کوشش تھی کیونکہ اخوان مغرب کے لیے قابل قبول تھی۔جب جولانی الجزیرہ کےاینکر کے جھانسے میں نہیں آئے تو پھر موخر الذکر نے یہ کوشش کی کہ وہ کم سے کم یہ کہہ دیں کہ اخوان المسلمون اور القاعدہ کا نظریہ ایک ہی جیسا ہے۔چنانچہ پھر جولانی نے یہ تسلم کر ہی لیا کہ یہ دونوں جماعتیں ایک ہی نظریے کی پیداوار ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں۔