دہشت گردی کا کوئی دین اور مذہب نہیں: سعودی عرب
’باعزت روزگار نوجوانوں کو انتہا پسندی سے روک سکتا ہے‘
سعودی عرب نے دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں کےنمائندہ اجلاس ’جی 20‘ کے موقع پر کہا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی دین اور مذہب نہیں۔ نوجوان نسل کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی راہ پر چلنے سے روکنے کے لیے انہیں باعزت روزگار فراہم کرنا ہوگا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمنی کے شہر ہیمرگ میں جمعہ کے روز شروع ہونے والے ’جی 20‘ اجلاس کے پہلے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر مملکت ڈاکٹر ابراہیم بن عبدالعزیز العساف نے کہا کہ روزگار کی فراہمی نوجوانوں کو انتہا پسندی سے روکنے کا بہترین راستہ ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کا دہشت گردی کے لیے بھرتی اور پروپیگنڈے میں استعمال روکنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔
ڈاکٹر العساف نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی دین اور مذہب نہیں۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کا نشانہ پوری دنیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سعودی عرب نے مضبوط حکمت عملی اختیار کی ہے۔
-
امریکا اور روس کا اتوار سے شام میں جنگ بندی کا اعلان
ٹرمپ اور پوتین کے درمیان ملاقات میں شام سمیت مختلف عالمی امور پر بات چیت
بين الاقوامى -
’قطر کی ہٹ دھرمی دہشت گردوں سے تعلقات کی عکاس ہے‘
چار عرب ممالک نے متفقہ طور پر قطری جواب مسترد کردیا
مشرق وسطی -
سوشل میڈیا پر سعودی عرب پر حملوں کے لیے قطر کے 23 ہزار اکاؤنٹس
سعودی عرب کے شاہی دیوان کے مشیر اور مرکز برائے اطلاعات اور مطالعات کے نگران سعود ...
بين الاقوامى