.

جنیوا : شام امن مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم

اقوام متحدہ ایلچی کا شام میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی میستورا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شام امن مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور نہ کسی گروپ نے بائیکاٹ کیا ہے۔

اسٹافن ڈی میستورا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ویڈیو کے ذریعے شام کی صورت حال اور امن مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور یہ توقع ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا موقف واضح کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی اب ہر سطح پر موضوع بحث ہے۔

واضح رہے کہ شامی حکومت گذشتہ سال اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن مذاکرات کے آغاز کے بعد سے دہشت گردی کے موضوع پر بات چیت کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔چنانچہ اس موضوع کو بھی اس سال کے اوائل میں نئے آئین ،نئے انتخابات اور اصلاحات کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا تھا۔تاہم حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی سیاسی انتقال اقتدار پر اصرار کررہی ہے۔

لیکن ڈی میستورا کے بہ قول صدر بشارالاسد کے مذاکرات کاروں نے انتقالِ اقتدار پر بات چیت کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر عالمی برادری اس تنازعے کے جلد خاتمے کے لیے اقدامات کرتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ پھر شامی حکومت سیاسی عمل کے حل پر بات چیت پر آمادہ ہو جائے گی؟‘‘

انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ ستمبر میں مذاکرات کے آیندہ دور میں تمام فریقوں کو ایک ہی کمرے کی چھت تلے مذاکرات کی میز پر بٹھانے پر کامیاب ہوجائیں گے۔

ڈی میستورا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو مسلح کرنے اور انھیں رقوم کی فراہمی روکنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بڑی سست رفتاری سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے کوششیں بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الرقہ میں داعش کے خلاف لڑائی میں مشترکہ کوششیں کی جارہی ہیں۔اس کے علاوہ حلب ،حماہ اور حمص کے نواحی علاقوں میں شامی حکومت اور اس کے اتحادی ان گروپوں کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں۔