جرمن عدالت کے جج کا شامی خاتون سے حجاب اتارنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی میں ایک جج نے شامی پناہ گزین خاتون کو سر پر اسکارف پہن کر کمرہ عدالت میں آنے سے روک دیا۔ عدالت میں خاتون کی طلاق کے حوالے سے مقدمہ دائر ہے۔

شامی خاتون کی وکیل نجات ابوکال نے ایک جرمن اخبار Tagesspiegel کو بتایا کہ ملک کے مشرقی شہر Luckenwalde میں عدالت کے جج نے ان کی مؤکلہ کو بھیجے گئے ایک تحریری خط میں کہا ہے کہ حجاب یا سر پر اسکارف جیسی مذہبی علامات کے ساتھ کمرہ عدالت میں داخلہ ممنوع ہے۔

عدالت کے جج نے دھمکی دی ہے کہ مذکورہ ہدایات کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں شامی خاتون کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شامی خاتون کی وکیل نجات نے باور کرایا ہے کہ جج کا مطالبہ جرمنی کے آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنی مؤکلہ کے نام بھیجے گئے جج کے خط پر اعتراض بھی داخل کر دیا ہے۔

نجات کے مطابق عدالتوں میں مذہبی علامتوں پر پابندی عدالتی ملازمین پر لاگو ہوتی ہے جب کہ عام افراد اس پابندی سے خارج ہیں۔

شامی خاتون کی جانب سے اعتراض جمع کرانے کے بعد ڈسٹرکٹ کورٹ کی ڈائریکٹر نے 27 جولائی کو مقررہ سماعت کو ملتوی کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 2006 میں فیصلہ جاری کیا تھا کہ سماعت میں سر پر اسکارف پہن کر آنے کی خواہش مند خواتین کو کمرہ عدالت سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں