جواد ظریف سے ملاقات میں اسدی مشیرہ کو حجاب یاد آگیا!
شام کے صدر بشارالاسد کی مشیرخاص بثنیہ شعبان کو عموما ننگے سر اور چست لباس میں دیکھا جاتا ہے مگر حال ہی میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کے دوران اُنہیں حجاب یاد آیا اور انہوں نے سر پر چادر اوڑھ لی۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس واقعے کو غیرمعمولی کوریج دی ہے۔
ایران کے ’العالم‘ ٹی وی کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ماسکو دورے کے دوران شامی حکومت کے ایک وفد نے دورے پرآْئے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے بھی ملاقات کی۔ شامی حکومت کے وفد میں صدر بشار الاسد کی چہتی مشیرہ بثنیہ شعبان بھی موجود تھیں۔ انہوں نے احتراماً اپنا سردوپٹے سے ڈھانپ لیا۔
ایرانی ٹی وی نے لکھا کہ بثنیہ شعبان ماسکومیں ایک منفرد حلیے میں ہیں۔
خیال رہے کہ بثنیہ شعبان اور اسد حکومت کے وزراء کا ایک وفد حال ہی میں وزیرخارجہ ولید المعلم کی قیادت میں روس کے دورے پر ماسکو پہنچا۔ اسی دوران ایرانی وزیرخارجہ جواد ظہوربھی ایک اہم اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے۔
بثنیہ شعبان کو اس سے قبل آخری بار 2016ء میں دمشق میں ایرانی سفارت خانے میں منعقدہ ایک تقریب میں دیکھا گیا تھا۔ یہ تقریب ایرانی انقلاب کی 37 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی تھی جس میں ایرانی سفیر اور شامی حکومت کی اہم شخصیات کو انقلاب کی سالگرہ کا کیک کاٹتے دیکھا جاسکتا ہے۔ کیک کاٹتے ہوئے بثنیہ شعبان کے ساتھ شام کےسرکاری مفتی بدرالدین حسون بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ بثنیہ نے اپنے مفتی صاحب کو کوئی اہمیت نہیں دی مگر روس میں جواد ظریف کےسامنے انہیں پردہ یاد آگیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا بثنیہ شعبان نے ماسکو میں جواد ظریف کے سامنے پردہ کیوں کیا۔ تاہم ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہےکہ شعبان نے ایسا ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات میں احتراما کیا ہے۔
-
شام میں امریکی کارروائی درست،مگر ناکافی ہے: ایردوآن
’بشار الاسد کو فوری طور پر اقتدار سے ہٹایا جائے‘
بين الاقوامى -
خلیج تعاون کونسل کی شامی فوجی اڈے پر امریکی حملے کی حمایت
امریکی حملہ بشار الاسد کو عبرت دلانے کے لیے کیا گیا: جی سی سی
مشرق وسطی -
شامی حکومت نے ادلب میں قتلِ عام کیا: ڈونلڈ ٹرمپ
بشار الاسد حکومت اقتدار میں رہنے کا جواز کھو چکی ہے
مشرق وسطی