ایران: قتل کیس میں بچے کو پھانسی دیے جانے کی شدید مذمت

علی رضا تاجکی کی سزا پرعمل درآمد ایران کا شرمناک اقدام: ایمنسٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی بار بار اپیلوں کے باوجود جمعرات کو ایرانی حکام نے شیراز شہر میں قائم ایک جیل میں قتل کیس میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے بچے علی رضا تاجکی کی سزا پرعمل درآمد کرتے ہوئے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے علی رضا تاجکی سزا پرعمل درآمد کی شدید مذمت اور تہران کے پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے علی رضا تاجکی کی سزا پرعمل درآمد کےرد عمل میں کہا ہے کہ جب علی رضا پر قتل کا الزام عاید کیا گیا اور اسے اس کیس میں حراست میں لیا گیا تب اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی۔ عالمی قوانین کی رو سے18 سال سے کم عمر کے افراد کا شمار بچوں میں ہوتا ہے اور کسی بچے کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔

ایران نے علی رضا تاجکی کی سزائے موت پرعمل درآمد کرکے’شرمناک‘ طرز عمل اپنایا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی اداروں کی مسلسل اپیلوں اور بین الاقوامی دباؤ کے بعد ایران علی رضا تاجکی کی سزائے موت کو متعدد بار موخر کرتا رہا ہے۔ مگر سزا میں تبدیلی کے بجائے بالآخر اسے پھانسی کےگھاٹ اتار دیا۔

ایمنسٹی کے مطابق رواں سال کے دوران ایرانی حکام نے پانچ ایسے ملزمان کو دی گئی سزائے موت پرعمل درآمد کیا جنہیں جب گرفتار کیا گیا تھا تو ان کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔

تاجکی کو 2013ء کو فارس گورنری کی ایک فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ قبل ازیں اسے دوران حراست قتل کے جرم کا اعتراف کرایا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت تاجکی کی عمر پندرہ سال تھی۔ وحشیانہ تشدد اور غیر شفاف ٹرائل کے بعد اسے ایک ایرانی کے قتل میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں