.

سعودی عرب اور عراق کے درمیان نئے اتحاد کے قیام کے لیے مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور سعودی عرب کے درمیان ایک نئے اتحاد کے قیام کے لیے سنجیدہ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔اس کے تحت عراق کے جنگ زدہ شہروں کی تعمیر نو کے عمل میں سعودی عرب کو قائدانہ کردار دیا جائے گا۔

برطانوی اخبار گارڈین نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب عراقی جماعتوں سے مسلسل بات چیت کررہا ہے اور اس کا مقصد عراق کو ایک مرتبہ پھر عرب دھارے میں واپس لانا اور ایران کے اثر ورسوخ سے آزاد کرانا ہے۔

گذشتہ چھے ماہ کے دوران میں دونوں ملکوں کے سینیر عہدہ داروں کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ان میں ہونے والی بات چیت میں سعودی عرب کی جانب سے عراق کی امداد اور ایران کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کا موضوع سرفہرست رہا تھا۔

واضح رہے کہ سنہ 2003ء میں امریکی فوجوں کی چڑھائی کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ایران نے عراق میں بتدریج اپنے قدم جما لیے ہیں اور سیاست ومذہب سے لے کر داعش کے خلاف جنگ تک میں اس کے اثرات کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

گارڈین نے لکھا ہے کہ سعودی عرب اور عراق نے ماضی کے اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے اپنے تعلقات کو ازسر نو بحال کیا ہے اور دونوں ملکوں کے اعلیٰ عہدہ داروں کے دوروں سے تعلقات میں نمایاں بہتری بلکہ گرم جوشی آئی ہے۔عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے جون میں سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں میں دوطرفہ تعاون کے متعدد سمجھوتے طے پائے تھے۔ان کے تحت سعودی عرب نے عراق کی تعمیر نو کے لیے سرمایہ کاری پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی۔

حال ہی میں عراق کی طاقتور صدری تحریک کے سربراہ مقتدیٰ الصدر کے سعودی عرب اور پھر متحدہ عرب امارات کے دورے سے ان تعلقات کو ایک نئی جہت ملی ہے۔مقتدیٰ الصدر کا سعودی عرب میں سرکاری سطح پر استقبال کیا گیا تھا اور انھیں ایک اعلیٰ حکومتی عہدہ دار کے برابر پروٹوکول دیا گیا تھا۔