بارسلونا میں وین حملے کا مشتبہ ڈرائیور یونس ابو یعقوب پولیس کارروائی میں ہلاک
ہسپانوی پولیس نے بارسلونا میں گذشتہ جمعرات کو وین حملے میں ملوث مرکزی مشتبہ ملزم یونس ابو یعقوب کو سوموار کے روز ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا ہے۔
ایک ہسپانوی اخبار لا وینگار ڈیا کی رپورٹ کے مطابق بائیس سالہ مشتبہ ملزم کے خلاف بارسلونا کے مغرب میں واقع علاقے سینٹ سیڈورنی ڈی نووا میں ایک خفیہ اطلاع ملنے کے بعد کارروائی کی گئی ہے۔پولیس گذشتہ چار روز سے اس کی تلاش میں تھی۔
ہسپانوی پولیس نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق سے انکار کیا تھا ۔البتہ اس نے اس کے منظرعام پر آنے سے قبل ٹویٹر پر یہ کہا تھا کہ بارسلونا سے دس کلومیٹر دور واقع علاقے سبریتس میں ایک واقعہ رونما ہورہا ہے لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی تھی۔
دریں اثناء اسپین کے ایک ریڈیو چینل نے الگ سے یہ اطلاع دی تھی کہ بارسلونا کے مغرب میں واقع علاقے سبریتس میں ایک مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔اس نے مبینہ طور پر بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی لیکن تلاشی کے بعد اس جیکٹ میں سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا تھا اور یہ جعلی تھی۔
واضح رہے کہ یونس ابو یعقوب ان بارہ مشتبہ حملہ آوروں کا سرغنہ بتایا جاتا ہے جنھوں نے بارسلونا کے مشہور سیاحتی مرکز لاس رامبلس میں وین تلے متعدد افراد کو کچل دیا تھا۔ اس حملے میں چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ہسپانوی پولیس نے بارسلونا میں حملے کے بعد گذشتہ جمعے کی صبح کاتالان میں واقع شہر کمبریلز میں ایک کارروائی میں یونس ابو یعقوب کے ایک بھائی الحسینی اور دو کزنوں محمد اور عمر ہاشمی سمیت پانچ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔یہ پانچوں بارسلونا میں حملے میں ملوث قرار دیے گئے تھے۔
یونس کا آبائی تعلق مراکش کے ایک چھوٹے قصبے مررت سے ہے ۔یہ قصبہ مراکشی دارالحکومت رباط سے ڈیڑھ سو کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔اس کی پھوپھی کا کہنا ہے کہ وہ 1999ء میں اپنے والد عمر ابو یعقوب کے ایک سال بعد اسپین میں اپنی والدہ کے ہمراہ آیا تھا۔ یہ لوگ مراکش سے کشتی کے ذریعے اسپین میں آئے تھے۔