.

شاہ سلمان کی منیٰ میں آمد ، حج انتظامات کا جائزہ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز جمعرات کی شب منیٰ پہنچے ہیں اور انھوں نے وہاں حجاج کرام کو سعودی حکومت کی جانب سے مہیا کی جانے والی سہولتوں اور خدمات کا جائزہ لیا ہے۔

منیٰ میں جمعہ 10 ذی الحجہ کو بیس لاکھ سے زیادہ حجاج کرام نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے حج کا ایک اہم رکن ادا کریں گے اور جمرات کو کنکریاں مارنے کے لیے جائیں گے۔

نو ذی الحجہ کو دنیا بھر سے آئے ہوئے فرزندان توحید نے حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا اور وہ شام تک میدان عرفات میں رہے تھے ۔عرفات پہاڑی ہی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشہور آخری خطبہ دیا تھا جو انسانیت کا منشور اعظم کہلاتا ہے۔

وقوفِ عرفہ کے بعد حجاج مزدلفہ کے لیے روانہ ہوگئے جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کرنے کے بعد آج رات کھلے آسمان تلے گزار رہے ہیں۔حجاج کرام کل واپس منیٰ آجائیں گے جہاں وہ شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور اللہ کی راہ میں جانور قربان کریں گے۔یہ عمل تین روز تک جاری رہے گا۔

اس دوران حجاج کرام اپنے سر منڈوائیں گے اور کعبۃ اللہ کا آخری طواف ''طواف زیارہ'' کریں گے اور یوں ان کے مناسک حج کی تکمیل ہوجائے گی۔سعودی حکومت کے مطابق اس سال دنیا بھر سے آئے ہوئے 23 لاکھ سے زیادہ مسلمان فریضہ حج ادا کررہے ہیں۔

سعودی حکومت نے گذشتہ برسوں کے دوران میں منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کے دوران بھگدڑ سے بچنے کے لیے اربوں ڈالرز کی لاگت سے بہتر انتظامات کیے ہیں اور پرانے پُل کو مسمار کر کے اس کی جگہ جمرات کے ارد گرد کثیر منزلہ پُل بنا دیے گئے ہیں۔

سعودی حکومت نے حسب سابق اس مرتبہ بھی حج کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور دس مربع کلومیٹر کے علاقے میں واقع مکہ معظمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کررکھے ہیں۔انتظامی عملے کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔طبی عملے کے سیکڑوں اہل کار اور ہردم مستعد رضا کار حجاج کی خدمت پر مامور ہیں۔