.

فرانس کا بشار کے بغیر شامی بحران کے حل کے لیے ٹائم ٹیبل کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بڑی طاقتیں شام میں عبوری مرحلے کے ٹائم ٹیبل پر متفق ہو جائیں.. تاہم انہوں نے اس حوالے سے شامی عوام کا قتل کرنے والے بشار الاسد کے کسی بھی کردار کو خارج از امکان قرار دیا۔

فرانس کی جانب سے اس کے وزیر خارجہ ژان ایو لو دریان کی زبانی یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ شام میں سیاسی عبوری مرحلے کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر حرکت میں آیا جائے۔ یہ پیش رفت ایک رابطہ گروپ کے ذریعے عمل میں لائی جائے جو شام کے نئے آئین کی تیاری اور انتخابات کا شیڈول ترتیب دینے کی ذمے داری پوری کرے۔

ایک فرانسیسی ریڈیو کو دیے گئے بیان میں لو دریان نے واضح کیا کہ اگر شامیوں کی جانب سے کسی حل تک پہنچنے کا انتظار کیا گیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ مزید ہلاکتیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ داعش تنظیم پر قابو پانے کے بعد عبوری مرحلے کا مقصد بشار الاسد کو اقتدار سے دور کرنا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے پیرس حکومت کے اس موقف کو پھر سے دُہرایا کہ وہ بشار کو شام میں امن کے حصول کی راہ میں ایک رکاوٹ شمار کرتی ہے۔

فرانس کے صدر امانوئل ماکروں نے کچھ روز قبل ایک نیا رابطہ گروپ قائم کرنے کی تجویز دی تھی جس میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور شام میں بنیادی کھلاڑیوں کا کردار ادا کرنے والے فریق شامل ہوں.. یہ گروپ شامی بات چیت کے انتظامی امور میں مدد کے لیے کام کرے گا۔

پیرس اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے دوران شام میں عبوری مرحلے کا نفاذ زیر بحث لایا جائے۔

فرانس کا موقف جرمنی کے موقف کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ جرمنی بشار الاسد کو جنگی جرائم کے ارتکاب کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے عبوری حکومت میں شام کے موجودہ صدر کے کسی بھی کردار کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔