.

ایرانی رجیم امریکا پر 11 ستمبر حملوں میں کیسے ملوّث تھا؟ ڈاکومینٹری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل ایران اور القاعدہ کے درمیان گٹھ جوڑ کے حوالے سے ایک خصوصی دستاویزی رپورٹ نشر کررہا ہے ۔اس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران بھی امریکا پر 11 ستمبر 2001ء کو طیارہ حملوں میں ملوّث تھا۔

’’ایران 11ستمبر‘‘ کے نام سے یہ ڈاکو مینٹری جمعہ کی شب سعودی عرب کے معیاری وقت کے مطابق گیارہ بجے سے نشر کی جارہی ہے۔یہ امریکا میں تیار کی گئی ہے اور اس میں ایسے انٹرویوز شامل ہیں جو اس سے قبل کبھی کسی میڈیا پر نشر نہیں ہوئے تھے ۔

ان میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی رجیم کے القاعدہ دہشت گرد گروپ سے تعلقات استوار تھے اور اس نے القاعدہ کے ارکان کو گیارہ ستمبر ایسی بڑی کارروائیاں انجام دینے کے لیے عسکری تربیت دی تھی۔

ایران کی سکیورٹی سروس ویواک کے یورپ میں تعینات ایک سابق سینیر عہدہ دار ابوالقاسم مصباحی نے اس رپورٹ میں شامل میں اپنے انٹرویو میں اس تفصیل کا انکشاف کیا ہے کہ ایران القاعدہ کی کیسے مدد ومعاونت کرتا رہا تھا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے القاعدہ کے ارکان کو بارود سے بھری گاڑیاں تیار کرنے کی تربیت دی تھی۔ایسی کاریں یا دوسری چھوٹی گاڑیاں خودکش کار بم حملوں کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

امریکا میں گیارہ ستمبر کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ میں بھی ایران کے کسی نہ کسی حوالے سے ملوث ہونے کا ذکر کیا گیا تھا لیکن امریکی حکومت اور مرکزی دھارے کے میڈیا نے نیویارک کے جڑواں ٹریڈ ٹاور اور واشنگٹن کے نزدیک پینٹاگان کی عمارت پر طیارہ حملوں کی سازش میں ایران کے ملوث ہونے کو نظر انداز کردیا تھا۔