بدھا ہوتے تو میانمار کے مسلمانوں کی مدد کرتے : دلائی لامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بدھ مت مذہب کے پیشوا دلائی لامہ نے میانمار میں بدھ مت انتہا پسندوں اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے تشدد کا شکار روہنگیا مسلمانوں کے حق میں پہلی مرتبہ آواز بلند کی ہے اور کہا ہے کہ اگر بدھا زندہ ہوتے تو وہ تشدد سے جانیں بچا کر راہ فرار اختیار کرنے والے مسلمانوں کی مدد کرتے۔

دلائی لامہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جو لوگ بھی مسلمانوں کو کسی نہ کسی طریقے سے ہراساں کررہے ہیں،انھیں بدھا ( کی تعلیمات ) کو یاد رکھنا چاہیے۔بدھا یقینی طور پر ان غریب مسلمانوں کی مدد کرتے۔میں ان مسلمانوں کے لیے بہت افسردہ ہوں‘‘۔

میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں 25 اگست سے سرکاری سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور ان میں اقوام متحدہ کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ روہنگیا مسلمان مارے گئے ہیں اور کم سے کم تین لاکھ مسلمان پُرخطر سفر کر کے بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ راکھین سے تشدد سے بچ کر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔

میانمار میں مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کا یہ نیا سلسلہ مبینہ طور پر روہنگیا مزاحمت کاروں کے اپنے دفاع میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی چوکیوں پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی نسلی اقلیت کے خلاف پرتشدد مظالم کو رکوانے کے لیے یہ حملے کررہے ہیں لیکن اس کے رد عمل میں میانمار کی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی شروع کردی تھی ۔اب روہنگیا مزاحمت کاروں نے یک طرفہ طور پر غیر علانیہ جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔

میانمار کے بدھ مت قوم پرست سخت گیر مذہبی پیشواؤں کی قیادت میں گذشتہ کئی عشروں سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور وہ مسلمانوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کے مطالبات کررہے ہیں ۔ان کی مہم کی وجہ سے ہی روہنگیا مسلمانوں کو میانمار کی شہریت نہیں دی جارہی ہے۔ وہ وہاں صدیوں سے ر ہنے کے باوجود بے ریاست ہیں اور انھیں عام انسانی حقوق نہیں دے جارہے ہیں۔

میانمار کی فوج ریاست راکھین میں مسلمانوں پر تشدد ہی پر اکتفا نہیں کررہی ہے بلکہ اب اس نے ان کی راہ روکنے کے لیے بنگلہ دیش کی سرحد کے ساتھ علاقے میں بارودی سرنگیں بھی بچھانا شروع کردی ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج دنیا کے ان چند ایک ممالک کی افواج میں سے ہے جو کھلے عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھاتی ہیں۔

1997ء میں ایک بیان الاقوامی معاہدے کے تحت بارودی سرنگیں بچھانے پر پابندی عاید کردی گئی تھی لیکن میانمار نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے جبکہ بنگلہ دیش نے دستخط کردیے تھے۔ بنگلہ دیشی حکام اور ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ برمی فوج کی حال ہی میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے سرحد عبور کرنے کی کوشش میں متعدد روہنگیا مسلمان زخمی اور معذور ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں