آستانہ میں ایران کی بطور ضامن شرکت پر امریکا کی تشویش
امریکی وزارت خارجہ نے آستانہ مذاکرات میں فائربندی کے ضامن ملک کی حیثیت سے ایران کی شرکت پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ منگل کے روز وزارت خارجہ نے کہا کہ تہران کی جانب سے بشار کی سپورٹ تنازع کی شدت اور شامیوں کے دُکھوں میں اضافہ کر رہی ہے۔
یہ تشویش ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام کے حوالے سے مذاکرات کا چھٹا دور شروع ہونے سے ایک روز قبل بدھ کو روس ، ایرن اور ترکی کے نمائندوں کے درمیان مشاورت ہو رہی ہے۔
تینوں ممالک کے نمائندے شام کے شہر اِدلب اور اس کے نواح میں سیف زون کی حدود کے تعین کو زیر بحث لائیں گے۔
اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ یہ اعلان کر چکی ہے کہ واشنگٹن کا ایک وفد آستانہ روانہ ہو گا جہاں وہ شام کے حوالے سے چودہ اور پندرہ ستمبر کو منعقد ہونے والے آستانہ 6 مذاکرات میں بطور مبصر شرکت کرے گا۔
امریکی وزارت کے بیان کے مطابق مشرق ادنی کے امور کے لیے امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ سیٹرفیلڈ امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس دوران وہ تشدد کے خاتمے اور غیر مشروط طور پر انسانی امدادات پیش کرنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کے واسطے امریکی سپورٹ باور کرائیں گے۔
دوسری جانب آج ہونے والی مشاورت میں روسی صدر کے خصوصی ایلچی الیگزینڈر لافرینتف، ترکی کے نائب وزیر خارجہ سیدات اونل اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین انصاری شرکت کر رہے ہیں۔
مشاورت میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا ، اردن کے وزیر خارجہ کے مشیر نواف وصفی اور امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ سیٹر فیلڈ بھی موجود ہوں گے۔
آستانہ میں بشار حکومت کے وفد کی قیادت اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار الجعفری کریں گے۔ شامی مسلح اپوزیشن کی نمائندگی شامی جیشِ حُر میں جنرل اسٹاف کمیٹی کے سربراہ احمد بری کریں گے۔
-
جنگ بندی کے نشان زد علاقے شام کی تقسیم کا آغاز ہیں : منذر ماخوس
آستانہ مذاکرات کا عمل دو دھاری تلوار ہے،روس ،ایران کے بیانات نہیں عملی موقف دیکھا ...
مشرق وسطی -
ضامن ممالک میں اختلافات، پانچویں آستانہ مذاکرات تعطل کا شکار
شام میں دیر پا قیام امن کے لیے قزاقستان کے صدر مقام آستانہ میں روس، ایران اور ترکی ...
بين الاقوامى -
روس ،ایران اور ترکی میں شام میں محفوظ زونز پر اتفاق
غیظ وغضب کا شکار شامی حزب اختلاف کا وفد آستانہ مذاکرات سے واک آؤٹ کر گیا
بين الاقوامى