.

یمن کو دوسرا گھر بنانے والا امریکی حوثیوں کے زیر قبضہ صنعاء سے اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں نامعلوم مسلح افراد نے گذشتہ دو عشروں سے زیادہ عرصے سے مقیم ایک امریکی شہری کو اغوا کر لیا ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے 63 سالہ ڈینی برچ نے یمن کو اپنا دوسرا گھر بنا رکھا ہے اور وہ ایک تیل کمپنی کے ملازم ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے بتایا ہے کہ وہ صنعاء میں اپنے بچوں کو ایک سوئمنگ پول پر چھوڑنے کے بعد گھر واپس آ رہے تھے اور اس دوران مسلح افراد انھیں اٹھا لے گئے ہیں۔

حوثی ملیشیا نے تین سال قبل یمنی دارالحکومت پر قبضے کے بعد متعدد غیر ملکیوں کو اسی انداز میں اغوا کیا تھا لیکن انھیں کچھ عرصہ یرغمال بنائے رکھنے کے بعد پڑوسی ملک اومان کی مداخلت پر رہا کردیا تھا۔ بعض مسلح یمنی قبائل اور القاعدہ کے جنگجو بھی غیر ملکیوں کو اپنے معاملات کے تصفیے یا تاوان کے لیے اغوا کرتے رہتے ہیں۔

برچ کی اہلیہ نادیہ فرس آل ہرازی نے حوثی ملیشیا سے اپنے خاوند کی بہ حفاظت رہائی کی اپیل کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ان کے خاوند گذشتہ بیس سال سے زیادہ عرصے سے دارالحکومت میں رہ رہے ہیں۔ان کے تین بچے ہیں اور ان میں بڑے کی عمر بارہ سال ہے۔

ان کی بھانجی رشا آل ہرازی نے بتایا ہے کہ ڈینی برچ صوبے مآرب میں تیل کمپنی صافر میں کام کررہے تھے۔اس صوبے کے زیادہ تر علاقوں پر یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کا کنٹرول ہے اور برچ تین ماہ قبل ہی حکومت اور باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں سفری پابندیاں نرم ہونے کے بعد اپنے کام پر لوٹے تھے۔

ڈینی برچ کے خاندان کو ان کے دوستوں اور صنعا میں روابط کے ذریعے ان کے اغوا کا پتا چلا تھا لیکن انھیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انھیں کس نے اغوا کیا ہے۔واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’’ ہم یمن میں ایک امریکی شہری کے لاپتا ہونے کے واقعے سے آگاہ ہیں لیکن ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور مزید معلومات نہیں ہیں‘‘۔