خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت شاہ سلمان کا ’تاریخی‘ فیصلہ

پہلی سعودی خاتون ترجمان کی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے کی پہلی خاتون ترجمان فاطمہ باعشن نے کہا ہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا ’تاریخ ساز‘ فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کے ملک کی معیشت اور معیشت پر دور رس مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے خصوصی گفت و گو کرتے ہوئے فاطمہ باعشن نے کہا کہ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے فیصلے کو مملکت میں بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف خواتین کو نقل وحرکت کی آزادی ملے گی بلکہ سماجی اور اقتصادی شعبوں میں بھی اس فیصلے کے دور رس مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کی سرکاری ترجمان نے کہا کہ شاہ سلمان نے عورتوں کو گاڑی چلانے کا حق دے کر تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی خواتین مسلسل ترقی کے عمل سے گذر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی قیادت نے تیزی سے تبدیل ہوتے حالات کے پیش نظر مناسب اور درست فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے شاہی فرمان میں ملک میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا۔ شاہ سلمان کے حکم پر خواتین کی ڈروائیونگ کا ضابطہ اخلاق طے کرنے کے لیے وزارت داخلہ، خزانہ، محنت اور سماجی بہبود پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 30 روز میں اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔ آئندہ سال جولائی سے خواتین کو سعودی عرب میں گاڑی چلانے کی باقاعدہ اجازت حاصل ہوجائے گی۔

فاطمہ باعشن سعودی عرب کی پہلی خاتون ہیں جو کسی سفارت خانے میں سرکاری ترجمان مقرر ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے پر امریکا میں بھی مثبت رد عمل سامنے آیا ہے۔ لوگ شاہ سلمان کے اس فیصلے کو مناسب اور خواتین کے حقوق کے باب میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین شاہ سلمان کے اس فیصلے کو ملک میں معاشی پہلوسے بھی مثبت خیال کرتے ہوئے اسے ویژن 2030ء کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے گاڑی چلانے پر عاید پابندی ملکی ترقی میں خواتین کی مادی اور لاجسٹک کردار کی ادائیگی میں رکاوٹ رہی ہے۔ اس پابندی کے اٹھنے سے ملک میں خواتین کو ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

اعدادو شمار کے مطابق سعودی عرب میں جنوبی ایشیا اور دوسرے ملکوں کے آٹھ لاکھ افراد سعودی خواتین کے ڈرائیور ہیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد غیرملکی ڈرائیوروں کا بوجھ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں