وزیر خارجہ کا عہدہ چھوڑنے کا کبھی نہیں سوچا: ٹیلرسن
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے واضح کیا ہے کہ انھوں نے کبھی اپنا عہدہ چھوڑنے کا نہیں سوچا تھا۔انھوں نے ان رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ اسی موسم گرما میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے مستعفی ہو رہے تھے۔
انھوں نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ ہم اس طرح کی حماقتوں میں نہیں پڑتے ہیں۔میں اس انتظامیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کا حصہ بننے نہیں جارہا ہوں‘‘۔انھوں نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کو احمق قرار دیا تھا۔
وہ بدھ کے روز واشنگٹن میں محکمہ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے این بی سی نیوز پر نشر ہونے والی ایک خبری رپورٹ کی بھی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا مستقبل مشکوک ہے اور وہ اسی موسم گرما میں وائٹ ہاؤس سے پالیسی اختلافات کی بنا پر مستعفی ہونے والے تھے۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جولائی میں بوائے اسکاؤٹس آف امریکا کی ریلی سے ایک سیاسی خطاب کے بعد دونوں میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ریکس ٹیلرسن ماضی میں اس تنظیم کی قیادت کرچکے ہیں۔
این بی سی نیوز نے اس تمام معاملے سے جان کاری رکھنے والے تین بے نامی عہدے داروں کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کے بعد 20 جولائی کو پینٹاگان میں منعقدہ ایک اجلاس کے بعد ریکس ٹیلرسن نے صدر ٹرمپ کو ’’ احمق ‘‘ قرار دے دیا تھا۔اس اجلاس میں صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم اور کابینہ کے عہدے دار شریک ہوئے تھے۔
ٹیلرسن کےاس تبصرے سے قبل صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ این بی سی نیوز کو جھوٹا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’یہ چینل تو سی این این سے بھی زیادہ بد دیانت واقع ہوا ہے۔یہ اچھی رپورٹنگ پر ایک دھبہ ہیں ۔اس میں حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ان کی خبری درجہ بندی گر گئی ہے‘‘۔