ہمارا مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی ہے: ٹیلرسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا مقصد ایران میں جمہوریت کے لیے کوشاں قوتوں کو مضبوط بنانا اور ملک میں حکمران نظام کو تبدیل کرنا ہے۔

’سی این این‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹیلرسن نے کہا کہ امریکی تزویراتی حکمت عملی کا مقصد صرف جوہری معاہدے سے نمٹنا نہیں بلکہ ایران کی طرف سے جملہ دھمکیوں اور خطرات سے نمٹنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ واشنگٹن ایرانی اپوزیشن قوتوں اور ملک میں جمہوریت کے قیام کے لیے کوشاں جماعتوں کی معاونت کرنا ہے۔ ہم ایران میں اعتدال پسند ووٹروں کو سپورٹ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ جمہوریت اور آزادی کے لیے کام کرنے والی طاقتوں کو مضبوط بنایا جاسکے۔ امریکا ایران میں اقتدار عوام کو سونپنے اور ملائیت سے ایرانی قوم کو نجات دلانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

ان کہنا تھا کہ ایران میں گیم کا اختتام نظام کی تبدیلی ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ وہ طویل المدت منصوبہ ہے۔

ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے جامع پالیسی کے قائل ہیں اور وہ ایران کی طرف سے تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ سابق صدر براک اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کر کے تہران کو مزید مضبوط بنانے میں اس کی مدد کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم سے اب تک ایران کے ساتھ سمجھوتے کو درست کرنے اور اس کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

ٹیلرسن نے اپنے انٹرویو میں دہشت گردی کی ایرانی حمایت، خطے میں دہشت گرد تنظیموں کی معاونت بالخصوص یمن میں حوثی باغیوں، شام میں صدر بشار الاسد کی معاونت کے ساتھ خطے میں ایرانی انقلاب کی توسیع پر تفصیلی بات چیت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں