.

الریاض میں تین روزہ ’’ مستقبل میں سرمایہ کاری اقدام‘‘ کانفرنس کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں تاریخی سرمایہ کاری کانفرنس شروع ہوگئی ہے۔اس میں سعودی عرب کی جانب سے اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے ویژن 2030ء کے تحت اصلاحات اور اقدامات کو اجاگر کیا جارہا ہے۔

’’مستقبل سرمایہ کاری اقدام‘‘ کے عنوان سے یہ کانفرنس تین روز جاری رہے گی۔اس کا مرکزی موضوع دنیا میں سب سے بڑے خود مختار سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کا قیام اور معاشی اصلاحات ہیں۔اس فنڈ سے سعودی عرب نے گذشتہ سال ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خدمات مہیا کرنے والی کمپنی اُوبر میں ساڑھے تین ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی تھی۔

سعودی ولی عہد اور نائب وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے شرکاء کو ان مواقع اور درپیش چیلنجز پر غور وفکر اور بحث ومباحثے کی دعوت دی ہے جن کی وجہ سے آیندہ عشروں میں عالمی معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول کا ناک ونقشہ بنے گا۔

کانفرنس میں60 سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 سو سے زیادہ مندوبین اور سرکردہ کاروباری شخصیات شریک ہیں۔ کانفرنس کے دوران میں مختلف پینل مباحثے اور فورم بھی منعقد ہورہے ہیں۔ منگل کو پہلے روز سی این بی سی کے اینڈریو راس سورکین نے اقتصادی ماہرین کے ایک پینل سے کانفرنس کا آغاز کیا۔اس کا موضوع بحث ’’ترقی کا عمل آگے بڑھانے کے لیے درکار نئے سماجی ،اقتصادی اور دانشورانہ فریم ورک‘‘ تھا۔

پینل کے شرکاء میں سعودی پبلک سرمایہ کاری فنڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر یاسر او الرمیان ، فرسٹ ایسٹرن انوسٹمنٹ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور چئیرمین وکٹر چو ، بلیک راک کے چئیرمین لیری فنک ، عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارد ، بریج واٹر ایسوسی ایٹس کے شریک سی ای او ڈیوڈ میکارمک اور سعودی آرامکو کے صدر اور سی ای او امین الناصر شامل ہیں۔

کانفرنس کے ایک سیشن میں مصنوعی ذہانت ، روبو ٹیکس ، ورچوئل حقیقت،بڑا ڈیٹا ، سوشل میڈیا ، میڈیکل سائنس اور چھوٹے انفرا اسٹرکچر ایسے موضوعات زیر بحث آئے ہیں۔کانفرنس میں گیگا کے مستقبل کے منصوبوں کی بھی نمائش کی جا رہی ہے۔یہ منصوبے بھی سعودی وژن2030ء کا حصہ ہے۔

پہلے روز کا آخری موضوع توانائی برائے پائیدار کرہ ارض تھا اور اس شعبے میں آیندہ دس سال کے دوران میں ٹیکنالوجی اور نئی ایجادات سے ہونے والی تبدیلیوں پر غور کیا گیا ہے۔کانفرنس میں توانائی کے قابل تجدید وسائل پر سرمایہ کاری کے حوالے سے درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا جائے گا۔

توانائی کے موضوع پر مباحثے کے شرکاء میں سعودی عرب کے توانائی ، صنعتوں اور معدنی وسائل کے وزیر خالد الفالح ،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ’’پائیدار توانائی سب کے لیے ‘‘ کے منصوبے کے خصوصی نمائندے راچیل کائٹ ، اور جنرل الیکٹرک کے وائس چیئرمین جان رائس شامل تھے ۔