صدر ٹرمپ نیویارک اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے سعودی آرامکو کے حصص کی فروخت کے خواہاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’وہ سعودی عرب کی جانب سے آرامکو کے حصص کی پہلی مرتبہ نیو یارک اسٹاک ایکس چینج کے ذریعے فروخت کو سراہیں گے اور یہ اقدام امریکا کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہوگا‘‘۔
سعودی عرب کی بڑی تیل کمپنی آرامکو کے پانچ فی صد حصص آیندہ سال پہلی مرتبہ عوام کو فروخت کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔سعودی معیشت کو متنوع بنانے اور تیل کی معیشت پر انحصار کم کرنے کے لیے اعلان کردہ سعودی ویژن 2030ء میں آرامکو کے حصص کی فروخت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ ماہ برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آیندہ سال آرامکو کے حصص کی فروخت کے لیے تمام انتظامات بہ خیر وخوبی انجام پا رہے ہیں۔انھوں نے آرامکو کی کل مالیاتی قدر کا تخمینہ دو کھرب ڈالرز بتایا تھا اور کہا تھا کہ یہ رقم اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ ( پی آئی ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یاسر بن عثمان الرمیان نے بھی گذشتہ ماہ الریاض میں منعقدہ ’’ مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس میں‘‘ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی آرامکو کے 2018ء میں حصص کی فروخت کا معاملہ ٹریک پر ہے۔
سعودی عرب اپنی اسٹاک ایکس چینج کے ذریعے آرامکو کے حصص عوام کو پیش کرنے کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے لیکن وہ اس کے علاوہ کسی بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے بھی یہ حصص فروخت کرنا چاہتا ہے۔آرامکو کے فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے ان حصص کی کل مالیت ایک سو ارب ڈالرز ہوسکتی ہے۔
نیویارک اسٹاک ایکس چینج گروپ کے صدر تھامس فارلے نے گذشتہ ماہ الریاض میں سرمایہ کانفرنس میں یہ کہا تھا کہ وہ آرامکو کے حصص کی فروخت کے لیے سعودی حکام سے بات چیت کررہے ہیں۔نیویارک کے علاوہ لندن اسٹاک ایکس چینج کے ذریعے بھی حصص کی فروخت کا جائزہ لیا جارہا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں اسٹاک مارکیٹوں میں بعض معاملات بھی درپیش ہوسکتے ہیں۔نیویارک اسٹاک مارکیٹ کو متنازع سمجھا جاتا ہے جبکہ لندن کی اسٹاک مارکیٹ اتنی بڑی نہیں ہے کہ وہ آرامکو کے حصص کی فروخت کا معاملہ سنبھال سکے۔