کرپشن کی پاداش میں گرفتار کسی شخص سے رو رعایت نہیں ہو گی: اٹارنی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل الشيخ سعود بن عبدالله بن مبارك المعجب نے واضح کیا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات میں زیر حراست کسی بھی شخص کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی رو رعایت نہیں کی جائے گی۔ عہدہ یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی معاملہ نہیں کیا جائے گا۔

ایک بیان میں الشيخ سعود بن عبدالله بن مبارك المعجب نے توجہ دلائی کہ جو لوگ بدعنوانی کے الزام میں زیر حراست ہیں ان کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو دیگر افراد کو دیئے جاتے ہیں۔ ایک عام سعودی شہری، شہزادے، وزیر اور اعلیٰ عہدیدار کے حقوق میں کوئی فرق نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انسداد بدعنوانی کی نئی کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا۔ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت تشکیل دی گئی کمیٹی کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ مفاد عامہ کے تحت ملزمان کو حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ ان کے معاونین کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ان کی جامہ تلاشی اور مکانات کی تلاشی بھی لی جا سکتی ہے۔ جو کچھ کیا جا رہا ہے یا کیا جائے گا وہ مفاد عامہ کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے اعلیٰ کمیٹی کے دائرہ اختیار کے تحت ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں