بحرین کی ایرانی حملے کی مذمت، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بحرین نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایرانی میزائلوں کو روک لیا ہے اور تہران کے ''کھلے جارحانہ حملے'' کی شدید مذمت کی ہے۔

بحرینی حکومت نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ امن کے عمل کا حصہ بنے یا خود کو تنہائی کی طرف دھکیل لے۔



بحرین کی وزارت خارجہ نے آج ہفتے کے روز اپنے بیان میں تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر، بغیر کسی پابندی یا فیس کے کھولا جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں شہری بحری جہازوں کی محفوظ اور انسانی بنیادوں پر آمدورفت کے لیے ایک محفوظ راہداری فراہم کرنی چاہیے۔

استحکام بارودی سرنگیں بچھا کر قائم نہیں رہتا

اس کے ساتھ ہی بحرین نے کہا ہے کہ ایرانی فورسز نے بحرین اور کویت کی جانب سات بیلسٹک میزائل داغے جنہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔

بحرینی حکام کے مطابق ملک اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کرے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ اپنے برادر ممالک اور اتحادیوں کی حمایت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔

کویت ایئرپورٹ سے (فائل فوٹو - رائٹرز)
کویت ایئرپورٹ سے (فائل فوٹو - رائٹرز)

امریکی، ایرانی جھڑپ

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی، جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آج اعلان کیا کہ اس نے خطے میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔

یہ کارروائیاں سیرِک شہر اور جزیرہ قشم پر امریکی حملوں اور ان چار آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئیں ،جو آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران نے کویت اور بحرین کی جانب سات بیلسٹک میزائل فائر کیے، جو اس وقت داغے گئے جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی طرف آنے والے چار ڈرونز کو مار گرایا۔

کویتی فوج نے بتایا کہ اس نے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا تھا۔ادھر بحرین نے بھی صبح سویرے ممکنہ میزائل حملے کے پیش نظر خطرے کا سائرن بجا دیا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ایران نے کویت کے مرکزی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

یہ جنگ 28 فروری کو ایران ایک طرف اور امریکہ و اسرائیل دوسری طرف کے درمیان شروع ہوئی، اس میں ایرانی افواج نے خلیجی ممالک کی جانب سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں، جن کی تعداد بعض رپورٹس کے مطابق اسرائیل پر کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں