.

لبنان سے ’اعلان جنگ‘ کرنے والے ملک کے طور پر نمٹیں گے:السبھان

حزب اللہ نے سعودیہ کے خلاف دہشت گردی کی ہر کارروائی میں ساتھ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خلیجی امور ثامر السبھان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کسی صورت میں یہ بات قبول نہیں کرے گا کہ لبنان الریاض کے خلاف جنگ میں شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ ملیشیا کی وجہ سے ہم لبنانی حکومت سے ’اعلان جنگ‘ کرنے والی حکومت کے طور پر نمٹیں گے۔

’العربیہ‘ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ثامر السبھان نے کہا کہ لبنانی حکومت نے جتنے بھی فیصلے کیے ھزب اللہ ان پر اثرانداز ہوئی۔

ثامر السبھان نے ان خیالات کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا جب لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد حریری نے گذشتہ روز خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔

ثامر السبھان نے کہا کہ شاہ سلمان نے سعد حریری سے بات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ حزب اللہ نے سعودی عرب کے خلاف جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت سعودی عرب کے خلاف برسر جنگ ملیشیا کے خطرات سے بہ خوبی آگاہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیر مملکت نے کہا کہ حزب اللہ سعودی عرب کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی ہر کارروائی میں شامل ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کو ’حزب الشیطان‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ سعودی عرب لبنانی شیعہ ملیشیا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل استعمال کرے گا۔

ثامر السبھان نے کہا کہ لبنانی حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امن کے ساتھ ہے یا حزب اللہ کی دہشت گردی کی حمایت کرتی ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ لبنانی حکومت حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون کو روکے گا۔ اب یہ فیصلہ لبنانیوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سعودی عرب کا ساتھ دیتے ہیں یا دہشت گردوں کا۔

انہوں نے الزام عاید کیا کہ حزب اللہ سعودی نوجوانوں کو منشیات اسمگل کرنے کے ساتھ دہشت گردی کی تریبت فراہم کررہی ہے۔